ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 209

پائے گی۔کوئی نقص اور کمزوری اس میں نہیں ہے۔اسلام ایسا مذہب ہے جو ایک ہی زندہ اور ابدی مذہب ہے کیونکہ اس کی تاثیرات اور پھل ہمیشہ تازہ بتازہ موجود رہتے ہیں لیکن ہمارے مخالف علماء اسلام کی عام خوبیاں تو بیان کرتے ہیں کہ وہ توحید کی تعلیم دیتا ہے لیکن ایک اعلیٰ درجہ کی خوبی کا انکار کرتے ہیں۔ایسا تو ایک برہمو بھی کر سکتا ہے۔فرض کرو اگر ایک برہمو کہے کہ بے شک لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی تعلیم عمدہ ہے اور میں بھی مانتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی صفات بھی مانتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان لاتا ہوں اور تمہاری طرح ہم بھی تناسخ کے نقص بیان کرتے ہیں اور اس کی تردید کرتے ہیں۔باوجود ان باتوں کے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار کرتا ہے تو کیا اس کی اتنی باتیں قابل قدر ہو سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔اس لیے کہ اسلام کی جو اعلیٰ درجہ کی خوبی تھی وہ تو اس نے فروگذاشت کر دی۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یقینی ثبوت اور زندہ ثبوت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہی تھی۔جب اسے وہ نہیں مانتے تو معلوم ہوا کہ باقی جو کچھ ہے وہ بھی محض خیالی امر ہے۔اسی طرح پر ہمارے مخالف علماء کی حالت ہو رہی ہے۔وہ چیز جو میں دنیا کو دینی چاہتا ہوں وہ ان کے پاس نہیں اور اس سے وہ غفلت کر رہے ہیں۔وہ یہ ہے کہ انسان جب تک اللہ تعالیٰ کی ہستی کو سمجھ نہیں لیتا اور انا الموجود ہونے کی آواز نہیں سن لیتا نفس امّارہ پر غالب نہیں آتا۔اسلام کی اصلی غرض یہی تھی جو اَب مفقود ہو چکی تھی۔اسی کے احیاء کے لیے مجھے بھیجا گیا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں جس قدر کوئی کسی سے خوف کرتا ہے یا کسی کی طرف رغبت کرتا ہے وہ معرفت کا ثمرہ ہوتا ہے۔دیکھو! اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس سوراخ میں سانپ ہے تو وہ کبھی اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ رات کے وقت اس مکان میں بھی داخل نہ ہوگا۔ایسا ہی اگر معلوم ہو کہ یہاں ایک خزانہ مخفی ہے تو اس کی طرف التفات پیدا ہوگی۔اندھیرے میں ایک چیز کو اگر بکرا سمجھتا ہے تو جب تک اسے بکرا سمجھتا ہے تو پاس کھڑا رہے گا لیکن یونہی جب یہ خیال ہوگا کہ وہ شیر ہے پھر وہاں نہیں رہ سکتا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کی محبت اور خوف معرفت سے پیدا ہوتی ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی آدمی دانستہ زہر نہیں کھا سکتا۔سنکھیا خواہ شہد میں بھی ملا ہوا