ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 203

تکالیف اور شدائد کا فلسفہ اصل بات یہ ہے کہ انسانی فطرت ایسی واقعہ ہوئی ہے کہ وہ زد و کوب ہی سے درست ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت انسان کی تکمیل چاہتی ہے اور خود عبودیت کا بھی تقاضا ہے کہ کسی نہ کسی طرح تکمیل کرے۔اس لیے منجملہ تکمیل کی صورتوں کے ایک شدائد اور مصائب بھی ہیں۔انبیاء علیہم السلام جو بالکل معصوم اور مقدس وجود ہوتے ہیں وہ بھی تکالیف اور شدائد کا نشانہ بنتے ہیں۔۱ اور ایسے مصائب ان پر آتے ہیں کہ اگر کسی اور پر آئیں تو وہ برداشت بھی نہ کر سکے۔ہر طرف سے ان کے دشمن اٹھتے ہیں کوئی باتوں سے دکھ دیتا ہے کوئی حکام وقت کے ذریعہ تکلیف دینے کا منصوبہ کرتا ہے کوئی قوم کو اس کے برخلاف اکساتا ہے۔غرض ہر پہلو سے اس کو تکلیف دی جاتی ہے اور ہر طرح کی بے آرامی اور حزن و غم ان پر آتا ہے۔باوجود اس کے ان ساری باتوں کا کچھ بھی اثر ان پر نہیں ہوتا اور وہ پہاڑ کی طرح جنبش نہیں کرتے۔کیا اس سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ گنہ گار ہیں؟ ہرگز نہیں۔اگر کوئی ایسا خیال کرے تو اس سے بڑھ کر بیہودگی اور کیا ہوگی؟ بچوں کی تکالیف کا مسئلہ انبیاء علیہم السلام کے مسئلہ سے خوب حل ہوتا ہے۔معصومیت کے لحاظ سے بچہ سمجھ لو۔یہ مصائب عبودیت کی تکمیل کے لیے ہیں۲ اور عالم آخرت کے لیے مفید ہیں۔اگر ایسی حالت ہوتی کہ مرنے کے بعد بچہ کی روح مفقود ہو جاتی تو بھی اعتراض کا موقع ہوتا لیکن جب کہ