ملفوظات (جلد 7) — Page 202
دینے میں مصروف ہوجائیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں زور آور حملوں سے تیری سچائی کو ظاہر کر دوں گا۔یہی اس کے حملے ہیں۔پس ہم ان حملوں کو روکنے کے واسطے کیوں دعا کریں؟ دنیا کے آرام میں ہمارا آرام نہیں۔جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے ہی لیے ہو رہا ہے اور ہمیشہ سے عادت اللہ اسی طرح جاری ہے۔جب ہمارے ہر امر کا متولی خدا ہے تو ہمیں کیا غم ہے۔جو ہوگا کوئی نشان ہی ہوگا۔۱ ۱۱؍اگست ۱۹۰۵ء (دربارِ شام) تناسخ حضرت حکیم الامت کا بچہ عبد القیوم بیمار تھا۔گذشتہ شب کو اسے تکلیف تھی۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کا حال پوچھ رہے تھے۔اسی ذکر میں حضرت حکیم الامت نے کہا کہ میں اس سوال پر سوچتا رہا کہ آریہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ بچوں کو دکھ یا تکالیف ان کے پچھلے جنم کا نتیجہ ہے۔اس تحریک پر حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر بیان فرمائی یہ تو بالکل بیہودہ عقیدہ ہے۔۲ اول تو یہ بھی قابل غور امر ہے کہ آیا بچے اس قدر تکلیف محسوس بھی کرتے ہیں یا نہیں جس قدر ماں باپ محسوس کرتے ہیں۔کیونکہ حس بھی عقل ہی کے ساتھ بڑھتی ہے اور علاوہ بریں بچہ بھی جو بہشت میں داخل ہوگا تو کسی حق ہی سے ہوگا اس لیے اس قسم کی تکالیف اٹھاتا ہے۔۳