ملفوظات (جلد 7) — Page 204
جاودانی عالم اور ابدی راحت موجود ہے۔تو پھر یہ سوال ہی کیوں ہے؟ اگر یہ سوال ہے کہ بغیر تکلیف کے اس ابدی راحت میں داخل کر دے تو پھر کہیں گے کہ معاصی کا بکھیڑا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ بھی داخل کر سکتا تھا۔۱ اس کا جواب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں غنی بے نیاز ہے۔انسان کو نجات اور ابدی آسائش کے حصول کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہیے۔جب تک وہ تکالیف اور شدائد نہیں اٹھاتا راحت اور آسائش نہیں پاسکتا۔یہ شدائد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو انسان خود مجاہدات کرتا ہے اپنے نفس کے ساتھ جنگ کرتا ہے اور اس طرح پر اکثر تکالیف میں سے ہو کر گذرتا ہے۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ قضاء و قدر خود اس پر کچھ تکالیف نازل کر دیتی ہے اور اس ذریعہ سے اسے صاف کرتی ہے۔اس طریق میں بچہ اور انبیاء علیہم السلام کے نفوس قدسیہ ہوتے ہیں۔وہ بے گناہ اور معصوم ہوتے ہیں اس پر بھی مصائب اور شدائد ان پر آتے ہیں وہ محض ان کی تکمیل اور ان کے اخلاق اور صدق و وفا کے اظہار کے لیے۔انسان کے لیے سعی اور مجاہدہ ضروری چیز ہے اور اس کے ساتھ مصائب اور مشکلات بھی ضروری ہیں۔لَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (النجم:۴۰) جو لوگ سعی کرتے ہیں وہ اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح پر جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور نفس کی قربانی کرتے ہیں ان پر الٰہی قرب و انوار و برکات اور قبولیت کے آثار ظاہرہوتے ہیں اور بہشت کا نقشہ ان پر کھولا جاتا ہے۔یہ لوگ۲ اس راہ سے بے خبر ہیں اور ان انعامات سے بے بہرہ اس لیے ایسے گندے اور