ملفوظات (جلد 7) — Page 191
یعنی راحت اور رنج دونو گذر جاتے ہیں۔لیکن دین ایک ایسی چیز ہے کہ اس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ کو راضی کر لیتا ہے۔یقیناً جانو کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک راضی نہیں ہوتا اور نہ کوئی شخص اس تک پہنچ سکتا ہے جب تک صراط مستقیم پر نہ چلے۔وہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات صفات کو شناخت کرے اور ان راہوں اور ہدایتوں پر عملدر آمد کرے جو اس کی مرضی اور منشا کے موافق ہیں۔جب یہ ضروری بات ہے تو انسان کو چاہیے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور یہ کچھ مشکل امر نہیں۔دیکھو! انسان پانچ سات روپیہ کی خاطر جو دنیا کی ادنیٰ ترین خواہش ہے اپنا سر کٹا لیتا ہے۔پھر جب اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا خیال ہو اور اسے راضی کرنا چاہے تو کیا مشکل ہے۔انسان حقیقی دین سے کیوں محروم رہ جاتا ہے اس کا بڑا باعث قوم ہے۔خویش و اقارب دوستوں اور قوم کے تعلقات کو ایسا مضبوط کر لیتا ہے کہ وہ ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ایسی صورت میں ناممکن ہے کہ یہ نجات کا دروازہ اس پر کھل سکے۔یہ ایک قسم کی نامردی اور کمزوری ہے لیکن یہ شہیدوں اور مَردوں کا کام ہے کہ ان تعلقات کی ذرا بھی پروا نہ کرے اور خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھائے۔بعض کمزور فطرت لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہی کرنی ہے خواہ کسی مذہب میں ہوں۔مگر وہ نہیں جانتے کہ آج جس قدر مذاہب موجود ہیں ان میں کوئی بھی مذہب بجز اسلام کے ایسا نہیں جو اعتقادی اور عملی غلطیوں سے مبرا ہو۔وہ سچا اور زندہ خدا جس کی طرف رجوع کر کے انسان کو حقیقی راحت اور روشنی ملتی ہے۔جس کے ساتھ تعلق پیدا کر کے انسان اپنی گناہ آلودہ زندگی سے نجات پاتا ہے وہ اسلام کے سوا نہیں مل سکتا۔یہی پہلا زینہ ہر قسم کی روحانی ترقیوں کا ہے اگر اس کی توفیق مل جاوے تو پھر خدا اس کا اور وہ خدا کا ہوجاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ جب ایک شخص محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی قسم کی نفسانی اغراض کے بغیر ایک قوم سے قطع تعلق کرتا ہے اور خدا ہی کو راضی کرنے کے لیے دوسری قوم میں داخل ہوتا ہے تو ان تعلقات قومی کے توڑنے میں سخت تکلیف اور دکھ ہوتا ہے مگر یہ بات خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی قابل قدر ہے اور یہ ایک شہادت ہے جس کا بہت بڑا اجر اللہ تعالیٰ کے حضور ملتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرً