ملفوظات (جلد 7) — Page 192
يَّرَهٗ (الزلزال:۸) یعنی جو شخص ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرتا ہے اسے بھی ضائع نہیںکرتا بلکہ اجر دیتا ہے تو پھر جو شخص اتنی بڑی نیکی کرتا ہےا ور خدا کی رضا کے لیے ایک موت اپنے لیے روا رکھتا ہے اسے اجر کیوں نہ ملے؟ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے اپنے تعلقات کو توڑتا ہے وہ فی الحقیقت ایک موت اختیار کرتا ہے کیونکہ اصل موت بھی ایک قسم کا قطع تعلق ہی ہے یعنی روح کا جسم سے قطع تعلق ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کےلیے ان تعلقات کو توڑنا جو اپنی قوم اور خویش و اقارب سے ہوتے ہیں خدا کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔بسا اوقات یہ روک بڑی زبردست روک انسان کو خدا کی طرف آنے کے لیے ہوجاتی ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ دوستوں کا ایک گروہ ہے۔ماں باپ بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار ہیں ان کی محبت اور تعلقات نے اس کے رگ و ریشہ میں ایسی سرایت کی ہوئی ہے کہ وہ اسلام کی صداقت اور سچائی کو تسلیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بجز اس کے نجات نہیں۔لیکن ان تعلقات کی بنا پر اقرار کرتا ہے کہ یہ راہ جس پر میں چلتا ہوں خطرناک اور گندی راہ ہے مگر کیا کریں جہنم میں پڑنا منظور ان تعلقاتِ قومی کو کیونکر چھوڑ دیں؟ ایسے لوگ نہیں جانتے کہ یہ صرف زبان سے کہنا تو آسان ہے کہ جہنم میں پڑنا منظور اگر انہیں اس دکھ درد کی کیفیت معلوم ہو تو پتہ لگے۔ایک آنکھ میں ذرا درد ہو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ کس قدر تکلیف ہے پھر جہنم تو وہ جہنم ہے جس کی بابت قرآن شریف میں آیا ہے لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰى (طٰہٰ: ۷۵) ایسے لوگ سخت غلطی پر ہیں۔اس کا تو فیصلہ آسان ہے۔دنیا میں دیکھ لے کہ کیا وہ دنیا کی بلاؤں پر صبر کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ کیونکر سمجھ لیا کہ عذابِ جہنم کو برداشت کر لیں گے۔بعض لوگ تو دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر یہ لوگ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔یقیناً سمجھو کہ جہنم کا عذاب بہت ہی خطرناک ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا۔۔۔۔الآیۃ (اٰلِ عـمران:۸۶) یعنی جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواستگار ہو وہ آخر کار ٹوٹے میں رہے گا۔جس طرح پر انسان کا ایک حلیہ ہوتا ہے اور وہ اسی سے شناخت کیا جاتا ہے اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے صفات بھی ایک طرح پر واقع ہوئے ہیں۔یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ مختلف مذاہب والے