ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 190

بیقراری کی وجہ سے سر چار پائی کی پاٹی پر رکھا ہوا تھا۔اس وقت مجھے ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْ اور اس کے ساتھ ہی معاً درد جاتا رہا۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ دعا کے سلسلہ میں ہزارہا خزائن معارف کے مخفی ہیں۔جو شخص دوسری طرف توجہ کرے گا وہ ان خزائن سے محروم رہ جائے گا کیونکہ جب انسان اس راہ کو جس پر سایہ دار درخت ہوں اور پانی کا سامان ہو چھوڑ دے تو وہ ان تمام آرام کے سامانوں سے محروم رہے گا یا نہیں کسی کے پہلو میں دو دل تو نہیں ہو سکتے ایک ہی طرف توجہ کرے گا۔فِرَق ضالہ نے اسی وجہ سے نقصان اٹھایا کہ حقیقی راہ کو انہوں نے چھوڑدیا۔شیعہ وغیرہ جو حسین حسین پکارتے رہتے ہیں اسی سبب سے محروم رہے کہ انہوں نے انسان کو بت بنا لیا۔اور ان کے سینہ میں وہ نور عرفان کا نہ رہا۔اس کے بعد اپنے زمانہ طالب علمی اور شیعہ اوستاد کے بعض حالات بیان فرماتے رہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ قوم کہاں تک حقائق و معارف سے محروم رہ گئی ہے۔۱ ۹؍اگست ۱۹۰۵ء (دربار شام) حقیقی دین سے محروم رہ جانے کا باعث پشاور سے ایک نوجوان ہندو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کے واسطے آیا ہواتھا۔اس نے مختصراً اپنے حالات بیان کئے کہ کس طرح پر الحکم کے پڑھنے اور ایک احمدی کی صحبت نے اسے مشتاق زیارت بنایا۔اس تحریک پر حضرت حجۃ اللہ نے ذیل کی تقریر فرمائی۔سب سے بڑی بات تو دین ہے جس کو حاصل کرکے انسان حقیقی خوشحالی اور راحت کو حاصل کرتا ہے۔دنیا کی زندگی تو بہرحال گذر ہی جاتی ہے۔ع شبِ تنور گذشت و شب سمور گذشت