ملفوظات (جلد 7) — Page 138
ہوجائیں۔اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اگر نہ ہو تو قطعِ یقین ہو جاتا ہے۔بچہ کو اگر دودھ نہ ملے تو وہ کب تک جئے گا؟ آخر سسک کر مر جائے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے انقطاعِ امداد ہو تو انسان چونکہ کمزور اور ضعیف ہے جیسا کہ فرمایا خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا (النساء :۲۹) پس وہ بھی آخر روحانی طور پر مر جائے گا۔اس کی طرف اشارہ کر کے براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔اصل یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور اس کے تازہ بتازہ نشان ظاہر ہوتے ہیں تو ایمانی حالت درست اور مضبوط رہتی ہے ورنہ شیطانی علوم نے کچھ ایسا دخل کر لیا ہے کہ وہ دلوں سے قہری سیاست کے بغیر جو آسمان سے اترتی ہے نکل ہی نہیں سکتے۔ان کے لیے ایسی قہری ضرب چاہیے کہ شیطان چیخ کر نکل جاوے۔اللہ تعالیٰ رحیم ہے۔پس وہ اپنے بندوں پر ان نشانوں کے ذریعہ فضل کر رہا ہے اور ان کے ایمانوں کو طاقت دے رہا ہے۔فرمایا۔۵؍مئی کو میں نے ایک جامن کا پتہ توڑا۔اس پر ہر جگہ غور سے دیکھا تو یہی لکھا ہوا پایا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ۱ ۱۵؍مئی ۱۹۰۵ء سلسلہ کا مستقبل فرمایا۔انبیاء کی زندگی وہی ہوتی ہے جو ابتلا بھی ساتھ ہو۔چپ چاپ کی زندگی جو امن کے ساتھ کھاتے پیتے گذر جائے وہ عمدہ زندگی نہیں ہوتی۔محنتوں اور مشقتوں کے بعد سارٹیفکیٹ ملا کرتے ہیں۔یہ سلسلہ جو خدا نے جاری کیا ہے۔یہ اب ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا خواہ ہماری محنتوں سے یہ کام پورا ہو خواہ قضاء و قدر سے ایسے امور