ملفوظات (جلد 7) — Page 139
پیدا ہوجائیں جو اس کام کو پورا کر دیں۔زلزلہ کے متعلق اشتہار شائع کرنے کا مقصد فرمایا۔ہم نے زلزلہ کے متعلق جو اشتہار شائع کیا ہے یہ مخلوق الٰہی کی خیر خواہی کے واسطے ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کسی کے گھر کو آگ لگے اور کوئی جا کر اسے اطلاع دے۔ہر ایک خطرناک بات جو آئندہ ہونے والی ہوتی ہے جب اس سے کسی کو اطلاع دی جاوے تو ممکن ہے کہ اس کو تشویش ہو۔مگر یہ اطلاع اس کی بہتری کے واسطے ہے تاکہ آئندہ تباہی سے وہ بچ جاوے۔بہلول پور علاقہ لائل پور سے ایک خط پڑھا گیا جس میں لکھا تھا کہ ۱۱؍مئی کی رات کو یہاں ایسا زلزلہ آیا کہ پہلے ایسا سخت نہ آیا تھا۔ذکر آیا کہ اس سے نجومیوں کی بات غلط ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ اب ان تاریخوں میں کوئی زلزلہ نہیں آوے گا۔ابتلاؤں کا مقصد خدا کے بندوں پر ابتلا کے آنے کا ذکر تھا۔فرمایا۔ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔بعض فتوحات کا مدار ابتلاؤں پر ہوتا ہے۔کسی کی گریہ و زاری بعض دفعہ راہ کھول دیتی ہے۔مثنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک بزرگ کے پاس ایک دفعہ کھانے کو نہ تھا۔وہ بزرگ اور اس کے ساتھی سب بھوکے تھے۔اتنے میں ایک لڑکا حلوا بیچتا ہوا وہاں سے آ گذرا۔اس بزرگ نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اس سے حلوا چھین لو۔چنانچہ آدمیوں نے ایسا کیا اور وہ حلوا بزرگ نے اور اس کے ساتھیوں نے کھا لیا۔وہ لڑکا بہت رویا اور چلایا۔آدمیوں نے سوال کیا کہ اس میں کیا حکمت تھی کہ بچہ کا حلوا چھین لیا۔فرمایا کہ یہی اس بچہ کی پونجی تھی۔وہ بہت درد کے ساتھ رویا ہے اور اس کا رونا موجب کشائش اور فتوح کا ہوا ہے جو ہماری دعائیں نہیں ہوسکتی تھیں۔چنانچہ اس بچہ کو اس کے حق سے بہت زیادہ دے کر راضی کیا گیا۔اسی طرح بعض ابتلا صرف اس واسطے آتے ہیں کہ انسان اس رتبہ کو جلد حاصل کرلے جو اس کے واسطے مقدر ہے۔ذکر تھا کہ ۱۴؍ اپریل گذر گئی ہے جس کے واسطے انگریز نے پیشگوئی زلزلہ کی کی تھی۔اب