ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 137

(نوجوان۔جہالت اور بد قسمتی۔) اللہ تعالیٰ آپ کی اور ہماری ملاقات سے فائدہ دے۔۱ ۶؍مئی ۱۹۰۵ء (قبل ظہر) اللہ تعالیٰ سے چہرہ نمائی کے لیے دعا فرمایا کہ ہم تو زلزلہ کے وقت آئے تھے کہ باغ میں چل کر دعا کریں۔اب محض اس وجہ سے ٹھہرے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی ہے اس کے متعلق کچھ اور معلوم ہو جاوے کہ وہ قریب ہے یا دور۔اگر معلوم ہوا کہ دور ہے تو پھر ایک ماہ کے بعد واپس چلے جاویں گے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ ایسے وقت آئے گا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو گی بلکہ لوگ ہماری تکذیب کر چکے ہوں گے کہ وہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔قرآن شریف سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ (الانعام:۴۵) یہ عادت اللہ ہے کہ ایسے وقت عذاب آتا ہے جب لوگ اسے بالکل بھول جاتے ہیں۔ایسا ہی ان الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا چھپ کر آؤں گا۔گویا ہر شخص کا دل یقین کر لے گا کہ ہم نے جھوٹ بولا ہے۔بَغْتَةً کا یہی منشا ہے۔طبقات الارض والے اور جوتشی سب مل ملا کر فیصلہ کر دیں کہ کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔پھر خدا تعالیٰ کی وحی کی اور بھی عظمت ظاہر ہوگی۔حقیقت میں اگر وہ بھی یہی رائے دیتے کہ زلزلہ آئے گا تو ہماری بات مشتبہ ہوجاتی اور کمزور سمجھی جاتی۔لیکن اب تو ان لوگوں نے اقرار کر لیا ہے کہ زلزلہ نہیں آئے گا۔فرمایا۔اگر اب خدا تعالیٰ چپ رہے تو پھر دہریہ پن کے سوا کوئی اور مذہب نہ ہوگا۔اگر اس وقت اس کی چہرہ نمائی کی ضرورت نہیں ہے تو پھر کب ہوگی؟ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر میں دعا کی تھی کہ اے اللہ اگر تو نے آج اس گروہ کو ہلاک کر دیا تو پھر تیری کبھی عبادت نہ ہوگی۔یہی دعا آج ہمارے دل سے بھی نکلی ہے۔پس یقیناً یاد رکھو کہ اب اگر خدا تعالیٰ دستگیری نہ کرے تو سب ہلاک