ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 91

دعاؤں کا تھا وہ ادا کیا ہے کہ نہیں۔نماز کی ظاہری صورت پر اکتفاکرنا نادانی ہے اکثر لوگ رسمی نماز ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک ناواجب ٹیکس لگا ہوا ہے جلدی گلے سے اتر جاوے بعض لوگ نماز تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دعا اس قدر لمبی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دگنا تگنا وقت لے لیتے ہیں حالانکہ نماز تو خود دعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں ہے کہ نماز میں دعا کرے اس کی نماز ہی نہیں۔چاہیے کہ اپنی نماز کو دعا سے مثل کھانے اورسرد پانی کے لذیذ اور مزیدار کرلو ایسا نہ ہو کہ اس پر وَیْل ہو۔فضائل نماز نمازخدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو اگر ساراگھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نمازکو ترک مت کرو وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے۔نمازہرگز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں ہے جو اسے منحوس کہتے ہیں ان کے اندر خود زہر ہے جیسے بیمار کو شیر ینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کو نماز کا مزا نہیں آتا یہ دین کو درست کرتی ہے۔اخلاق کو درست کرتی ہے۔دنیا کو درست کرتی ہے نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔لذّات جسمانی کے لیے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں اور یہ مفت کا بہشت ہے جواسے ملتا ہے قرآن شریف میں دوجنتوں کا ذکر ہے ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذّت ہے۔نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لیے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذّت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر ان کے ملاپ میں ایک لذّت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے ایسے ہی اگر نماز میں لذّت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے دروازہ بند کرکے دعا کرنی چاہیے کہ وہ