ملفوظات (جلد 6) — Page 92
نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لیے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذّت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر ان کے ملاپ میں ایک لذّت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے ایسے ہی اگر نماز میں لذّت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے دروازہ بند کرکے دعا کرنی چاہیے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذّت پیدا ہو جو تعلق عبودیت کا ربوبیت سے ہے وہ بہت گہرااور انوار سے پُر ہے جس کی تفصیل نہیں ہوسکتی جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے اگر دوچار دفعہ بھی لذّت محسوس ہوجائے تواس چاشنی کا حصّہ مل گیا لیکن جسے دوچار دفعہ بھی نہ ملا وہ اندھا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى(بنی اسـرآءیل:۷۳ ) آئندہ کے سب وعدے اسی سے وابستہ ہیں ان باتوں کو فرض جان کرہم نے بتلادیا ہے۔اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں تک محدودنہ رکھو متکبّر دو سرے کا حقیقی ہمدرد نہیں ہوسکتا۔اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں تک ہی محدودنہ رکھو بلکہ ہر ایک کے ساتھ کرو۔اگر ایک ہندو سے ہمدردی نہ کرو گے تو اسلام کے سچے وصایا اسے کیسے پہنچائو گے خدا سب کا ربّ ہے۔ہاں مسلمانوں کی خصوصیت سے ہمدردی کرو اور پھر متقی اور صالحین کی اس سے زیادہ خصوصیت سے۔مال اور دنیا سے دل نہ لگائو۔اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تجارت وغیرہ چھوڑ دو بلکہ دل بایار اوردست با کار رکھو۔خدا کاروبار سے نہیں روکتا ہے بلکہ دنیا کو دین پر مقدم رکھنے سے روکتا ہے۔اس لیے تم دین کو مقدم رکھو۔۱ ۱ البدر میں یہ ڈائری یوں درج ہے۔’’چند ایک احباب نے اپنی واپسی کی اشد ضروریات پیش کیں ان کو رخصت عطا فرمائی گئی لیکن عالی جناب محمدابراہیم خان صاحب شریف بن حاجی موسیٰ خان صاحب برادرزادہ خان بہادر مراد خان مرحوم آمدہ از کراچی کی رخصت طلبی پر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’یہ چند دن اور رہیں ’’آمدن بارادت رفتن باجازت ‘‘اور اسی طرح جناب تفضل حسین صاحب پنشنر تحصیلدار رئیس اٹاوہ کی طرف مخاطب ہوکرفرمایا کہ ’’اب تو ان کو بھی فراغت ہے اور ایک عرصہ کے بعد آئے ہیں یہ بھی چنددن رہیں۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۱مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۳) ۲ البدر سے۔’’اس کے سواگذارہ نہیں ہے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۱مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۳) ۳ البدر میں ہے۔’’بعض صحابہ اور ان کی اولاد بھی طاعون سے فوت ہوئے تھے۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۱۱مورخہ ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۳)