ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 90

جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تواسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۱ اس کا یہی مطلب ہے کہ اپنے نفس کو فراموش کرکے دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا رہے بلکہ چاہیے کہ اپنے عیوب کو دیکھے چونکہ خود تو وہ پابندان امور کانہیں ہوتا اس لیے آخر کار لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصف:۳) کا مصداق ہو جاتا ہے۔تقویٰ حاصل کرنے کا طریق اخلاص اور محبت سے کسی کو نصیحت کرنی بہت مشکل ہے لیکن بعض وقت نصیحت کرنے میں بھی ایک پوشیدہ بغض اور کبر ملا ہوا ہوتا ہے اگر خالص محبت سے وہ نصیحت کرتے ہوتے تو خدا ان کو اس آیت کے نیچے نہ لاتا بڑا سعید وہ ہے جواوّل اپنے عیوب کو دیکھے ان کا پتا اس وقت لگتا ہے جب ہمیشہ امتحان لیتا رہے یادرکھو کہ کوئی پاک نہیں ہوسکتا جب تک خدا اسے پاک نہ کرے جب تک اتنی دعا نہ کرے کہ مَر جاوے تب تک سچی تقویٰ حاصل نہیں ہوتی اس کے لیے دعا سے فضل طلب کرنا چاہیے۔اب سوال ہوسکتا ہے کہ اسے کیسے طلب کرنا چاہیے تواس کے لیے تدبیر سے کام لینا ضروری ہے جیسے ایک کھڑکی سے اگر بدبو آتی ہے تواس کا علاج یہ ہے کہ یااس کھڑکی کو بند کرے یا بدبودار شَے کو اٹھا کر دور پھینک دے پس کوئی اگرتقویٰ چاہتا ہے اور اس کے لیے تدبیر سے کام نہیں لیتا تووہ بھی گستاخ ہے کہ خدا کے عطا کردہ قویٰ کو بے کار چھوڑتا ہے ہر ایک عطاءِ الٰہی کو اپنے محل پر صرف کرنا اس کا نام تدبیر ہے جو ہر ایک مسلمان کا فرض ہے ہاں جو نری تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے وہ بھی مشرک ہے اور اسی بَلا میں مبتلا ہو جاتا ہے جس میں یورپ ہے۔تدبیر اور دعا دونوں کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔تدبیر کرکے سوچے اور غور کرے کہ میں کیا شَے ہوں؟ فضل ہمیشہ خدا کی طرف سے آتا ہے ہزار تدبیر کرو ہرگز کام نہ آوے گی جب تک آنسونہ بہیں۔سانپ کے زہر کی طرح انسان میں زہر ہے اس کا تریاق دعا ہے جس کے ذریعہ سے آسمان سے چشمہ جاری ہوتا ہے جو دعا سے غافل ہے وہ مارا گیا۔ایک دن اور رات جس کی دعا سے خالی ہے وہ شیطان سے قریب ہوا۔ہر روز دیکھنا چاہیے کہ جو حق