ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 336

تک ہی رہ جائیں اور تم ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھاؤ اور یہ تمہارے دل تک نہ پہنچیں۔نہیں بلکہ پوری توجہ سے سنو اور ان کو دل میں جگہ دو اور اپنے عمل سے دکھاؤ کہ تم نے ان کو سر سری طور پر نہیں سنا اور ان کا اثر اسی آن تک نہیں بلکہ گہرا اثر ہے۔اس بات کو بخوبی یاد رکھو کہ گناہ ایسی زہر ہے جس کے کھانے سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے اور نہ صرف ہلاک ہی ہوتا ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے سے رہ جاتا ہے اور اس قابل نہیں ہوتا کہ یہ نعمت اس کو مل سکے۔جس جس قدر گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اسی اسی قدر خدا تعالیٰ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ روشنی اور نور جو خدا تعالیٰ کے قرب میں اسے ملتی تھی اس سے پَرے ہٹتا جاتا ہے اور تاریکی میں پڑ کر ہر طرف سے آفتوں اور بَلاؤں کا شکار ہوجاتا ہے۔یہاں تک کہ سب سے زیادہ خطرناک دشمن شیطان اس پر اپنا قابو پالیتا ہے اور اسے ہلاک کر دیتا ہے۔لیکن اس خطرناک نتیجہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک سامان بھی رکھا ہوا ہے۔اگر انسان اس سے فائدہ اٹھائے تو وہ اس ہلاکت کے گڑھے سے بچ جاتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے قرب کو پاسکتا ہے۔وہ سامان کیا ہے؟ رجوع اِلَی اللہ یا سچی توبہ۔خدا تعالیٰ کا نام توّاب ہے۔وہ بھی رجوع کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان جب گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دور ہوجاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس سے بعید ہوتا ہے۔لیکن جب انسان رجوع کرتا ہےیعنی اپنے گناہوں سے نادم ہو کر پھر خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو اس کریم رحیم خدا کا رحم اورکرم بھی جوش میں آتا ہے اور وہ اپنے بندہ کی طرف توجہ کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے۔اس لیے اس کا نام توّاب ہے۔پس انسان کو چاہیے کہ اپنے ربّ کی طرف رجوع کرے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع برحمت کرے۔شامتِ اعمال انسان جس قدر مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور دنیا میں اس پر آفتیں آتی ہیں۔یہ سب شامتِ اعمال ہی سے آتی ہیں۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ لوگ ایک دھوکا میں پڑ جاتے ہیں کہ ہم پر اگر مصیبتیں آئیں تو کیا ہوا؟ انبیاء علیہم السلام پر بھی مصیبتیں آتی ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ انبیاء علیہم السلام کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے ان کی