ملفوظات (جلد 6) — Page 335
اور دجّال کہا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا قابلِ رحم حالت اس قوم کی ہوگی!!! مسلمانوں کو چاہیے تھا اور اب بھی ان کے لیے یہی ضروری ہے کہ وہ اس چشمہ کو عظیم الشان نعمت سمجھیں اور اس کی قدر کریں۔اس کی قدر یہی ہے کہ اس پر عمل کریں۔اور پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح ان کی مصیبتوں اور مشکلات کو دور کر دیتا ہے۔کاش! مسلمان سمجھیں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ ایک نیک راہ پیدا کر دی ہے اور وہ اس پر چل کر فائدہ اٹھائیں۔یقیناً یاد رکھو کہ جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اس کی پاک کتاب پر عمل کرتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو لاانتہا برکات سے حصّہ دیتا ہے۔ایسی برکات اسے دی جاتی ہیں جو اس دنیا کی نعمتوں سے بہت ہی بڑھ کر ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک عفو گناہ بھی ہے کہ جب وہ رجوع کرتا اور توبہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔دوسرے لوگ اس نعمت سے بالکل بے بہرہ ہیں اس لیے کہ وہ اس پر اعتقاد ہی نہیں رکھتے کہ توبہ سے گناہ بھی بخشے جایا کرتے ہیں۔ان میں سے بعض تو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو ہم کو جونوں میں جانا پڑے گا اور معافی نہیں مل سکتی۔عیسائیوں کے اصول کے موافق مسیح کے خون پر ایک بار ایمان لا کر اگر گناہ ہوجاوے تو پھر صلیب مسیح کوئی فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ مسیح دو مرتبہ صلیب پر نہیں چڑھے گا۔تو کیا یہ بات صاف نہیں ہے کہ ان دونوں کے لیے بخشے جانے اور نجات کی راہ بند ہے کیونکہ صدورِ گناہ تو رک نہیں سکتا۔اگر خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کا شکر نہ کرے تو یہ بھی گناہ ہے اور غفلت کرے تو یہ بھی گناہ ہے اور ان گناہوں پر بھی جونوں میں جانا پڑے گا یا مسیح کو دوبارہ صلیب نہیں دیا جاوے گا، اس لیے کلّی طور پر مایوس ہونا پڑے گا مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ تعلیم نہیں دی۔ان کے لیے ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔جب انسان اس کی طرف رجوع کرے اور اپنے پچھلے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے خواستگار معافی ہو اور آئندہ کے لیے نیکیوں کا عزم کرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔سچی توبہ اور رجوع اِلَی اللہ کی نصیحت اس لیے میں کہتا ہوں کہ میری باتوں کو متوجہ ہو کر سنو۔ایسا نہ ہو کہ یہ باتیں صرف تمہارے کان