ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 337

مصائب اور مشکلات کو کوئی نسبت نہیں۔انبیاء علیہم السلام کی مصائب میں لذّت ہوتی ہے۔وہ قربِ الٰہی کے بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں۔ان سے محبت بڑھتی ہے اور ان کا فوق العادت استقلال اور رضا و تسلیم اعلیٰ درجہ کی معرفت کا باعث بنتی ہے۔برخلاف اس کے یہ مصیبتیں اور بَلائیں وبائیں جو گناہ کی شامت سے آتی ہیں ان میں درد اور تکلیف کے علاوہ خدا سے بُعد ہوتا ہے اور ایک تاریکی چھا جاتی ہے۔آخر بالکل تباہی اور بربادی ہوجاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک زہر ہے۔زہر کھا کر کوئی بچ نہیں سکتا۔پس گناہ کی زہر کھا کر یہ توقع کرنا کہ وہ بچ جائے گا خطرناک غلطی ہے۔یقیناً یاد رکھو جو گناہ سے باز نہیں آتا وہ آخر مَرے گا اور ضرور مَرے گا۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسل کو اسی لیے بھیجا اور اپنی آخری کتاب قرآن مجید اس لیے نازل فرمائی کہ دنیا اس زہر سے ہلاک نہ ہو بلکہ اس کی تاثیرات سے واقف ہوکر بچ جاوے۔قدیم سے سنّت اللہ اسی طرح پر چلی آئی ہے کہ جب دنیا پر گناہ کی تاریکی پھیل جاتی ہے اور انسانوں میں عبودیت نہیں رہتی اور عبودیت اور الوہیت کا باہمی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔انسان سرکشی اور بغاوت اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس کی آگاہی اور تنبیہ کے لیے اپنا ایک مامور بھیج دیتا ہے وہ دنیا میں آکر اہلِ دنیا کو اس خطرناک عذاب سے ڈراتا ہے جو ان کی شرارتوں اور شوخیوں کی وجہ سے آنے والا ہوتا ہے اور ان کو اس زہر سے جو گناہ کی زہر ہے بچانا چاہتا ہے جو سعید الفطرت ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں اور سچی توبہ کر کے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن شریر النفس اپنی شرارتوں میں ترقی کرتے اور اس کی باتوں کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑا کر خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتے ہیں اور آخر تباہ ہوجاتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے سچا تعلق عبودیت ہو آجکل یہی زمانہ آیا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ جو سچا تعلق عبودیت کا ہونا چاہیے اور جو محبت اپنے خالق سے ضروری ہے وہ کہاں ہے؟ ہر ایک شخص اپنی جگہ غور کرے اور اپنے نفس پر قیاس کر کے دیکھے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کے تعلقات کس قدر ہیں آیا وہ دنیا اور اس کی شان و شوکت کو اپنا معبود سمجھتا ہے یا حقیقی خدا کو معبود مانتا ہے؟ اس کے تعلقات اپنے نفس، اہل و عیال اور دوسری مخلوق