ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 287

پوری مقدار کھانے اور پینے کی نہ لے گا تب تک کچھ فائدہ نہ ہوگا۔یہی حال دعا کا ہے۔اگر انسان لگ کر اسے کرے اور پورے آداب سے بجا لاوے۔وقت بھی میسّر آوے تو امید ہے کہ ایک دن اپنی مراد کو پالیوے۔لیکن راستہ میں ہی چھوڑ دینے سے صدہا انسان مَر گئے (گمراہ ہوگئے) اور صدہا ابھی آئندہ مَرنے کو تیار ہیں۔ایک من پیشاب میںایک قطرہ پانی کا کیا شَے ہے جو اسے پاک کرے۔اسی طرح وہ بد اعمالیاں جن میں لوگ سر سے پاؤں تک غرق ہیں ان کے ہوتے ہوئے چند دن کی دعا کیا اثر دکھا سکتی ہے۔پھر عُجب، خود بینی، تکبّر اور ریا وغیرہ ایسے امراض لگے ہوئے ہوتے ہیں جو عمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔نیک عمل کی مثال ایک پرند کی طرح ہے اگر صدق اور اخلاص کے قفس میں اسے قید رکھو گے تو وہ رہے گا ورنہ پرواز کر جاوے گا اور یہ بجز خدا کے فضل کے حاصل نہیںہو سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا (الکھف:۱۱۱) عملِ صالح سے یہاں یہ مراد ہے کہ اس میں کسی قسم کی بدی کی آمیزش نہ ہو۔صلاحیت ہی صلاحیت ہو۔نہ عُجب ہو، نہ کبر ہو، نہ نخوت ہو، نہ تکبّر ہو، نہ نفسانی اغراض کا کوئی حصّہ ہو، نہ رُو بخلق ہو حتی کہ دوزخ اور بہشت کی خواہش بھی نہ ہو صرف خدا کی محبت سے وہ عمل صادر ہو۔جب تک دوسری کسی قسم کی غرض کو دخل ہے تب تک ٹھوکر کھائے گا اور اس کا نام شرک ہے کیونکہ وہ دوستی اور محبت کس کام کی جس کی بنیاد صرف ایک پیالہ چائے یا دوسری خالی محبوبات تک ہی ہے۔ایسا انسان جس دن اس میں فرق آتا دیکھے گا اسی دن قطع تعلق کر دے گا۔جو لوگ خدا سے اس لیے تعلق باندھتے ہیں کہ ہمیں مال ملے یا اولاد حاصل ہو یا ہم فلاں فلاں امور میں کامیاب ہو جاویں ان کے تعلقات عارضی ہوتے ہیں اور ایمان بھی خطرہ میں ہے جس دن ان کے اغراض کو کوئی صدمہ پہنچا اسی دن ایمان میں بھی فرق آجاوے گا۔اس لیے پکا مومن وہ ہے جو کسی سہارے پر خدا کی عبادت نہیں کرتا۔راست باز کی علامت راست بازوں کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ مصیبت سے ان کو چڑ ہوتی ہے اور جب ایسے موقع پر شیطان دخل دے کر ان کو بہکانا