ملفوظات (جلد 6) — Page 286
پیش ہوتے ہیں ان میں تو انسان ہمیشہ کےلیے ڈھیلا ہو سکتا ہے لیکن خدا کے احکام میں ڈھیلا پن اور اس سے بکلّی روگردانی کبھی ممکن ہی نہیں کون سا ایسا مسلمان ہے جو کم از کم عیدین میں بھی نماز نہ ادا کرتا ہو۔پس ان تمام اجتماعوں کا یہ فائدہ ہے کہ ایک کے انوار دوسرے میں اثر کر کے اسے قوت بخشیں۔صحبتِ صادقین نفس اور اخلاق کی پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ صحبتِ صادقین بھی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ:۱۱۹) یعنی تم خدا کے صادق اور راست باز لوگوں کی صحبت اختیار کرو تاکہ ان کے صدق کے انوار سے تم کو بھی حصّہ ملے۔جو مذاہب کہ تفرقہ پسند کرتے ہیں اور الگ الگ رہنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ یقیناً وحدتِ جمہوری کی برکات سے محروم رہتے ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا کہ ایک نبی ہو جو کہ جماعت بناوے اور اخلاق کے ذریعہ آپس میں تعارف اور وحدت پیدا کرے۔آدابِ دعا درستی اخلاق کے بعد دوسری بات یہ ہے کہ دعا کے ذریعہ سے خدا کی پاک محبت حاصل کی جاوے۔ہر ایک قسم کے گناہ اور بدی سے دور رہے اور ایسی حالت میسّر ہو کہ جس قدر اندرونی آلودگیاں ہیں ان سب سے الگ ہو کر ایک مصفَّا فطرۃ کی طرح بن جاوے۔جب تک یہ حالت میسّر نہ ہوگی تب تک خطرہ ہی خطرہ ہے لیکن دعا کے ساتھ تدابیر کو نہ چھوڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ تدبیر کو بھی پسند کرتا ہے اور اسی لیے فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا(النّٰزعٰت:۶) کہہ کر قرآن شریف میں قَسم بھی کھائی ہے۔جب وہ اس مرحلہ کو طے کرنے کے لیے دعا بھی کرے گا اور تدبیر سے بھی اس طرح کام لے گا کہ جو مجلس اور صحبت اور تعلقات اس کو حارج ہیں ان سب کو ترک کر دے گا اور رسم، عادت اور بناوٹ سے الگ ہو کر دعا میں مصروف ہوگا تو ایک دن قبولیت کے آثار مشاہدہ کر لے گا۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ کچھ عرصہ دعا کرکے پھر رہ جاتے ہیں اور شکایت کرتے ہیںکہ ہم نے اس قدر دعا کی مگر قبول نہ ہوئی حالانکہ دعا کا حق تو ان سے ادا ہی نہ ہوا تو قبول کیسے ہو۔اگر ایک شخص کو بھوک لگی ہو یا سخت پیاس ہو اور وہ صرف ایک دانہ یا ایک قطرہ لے کر شکایت کرے کہ مجھے سیری حاصل نہیں ہوئی تو کیا اس کی شکایت بجا ہوگی؟ ہرگز نہیں۔جب تک وہ