ملفوظات (جلد 6) — Page 288
چاہتا ہے تب ان کی غیرت جوش مارتی ہے اور بجائے اس کے کہ ان کا قدم پیچھے ہٹے وہ آگے بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیطان ہمیںپیچھے ہرگز نہیں ڈال سکتا۔شیطان بھی ایسے موقع پر ہر ایک قسم کے منصوبے اس کی لغزش کے لیے پیش کرتا ہے۔مال، اولاد، عزّت، آبرو، خلقت کی ملامت، طعن و تشنیع وغیرہ سب نقصانوں سے ڈراتا ہے لیکن وہ اوّل ہی سے دل میں فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم ان نقصانوں کی کچھ پروا نہ کریں گے۔آخر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شیطان ان کے نزدیک ایک مخنث سے بھی کمتر ہوتا ہے۔لیکن جس کا دعویٰ تو ایمان کا ہوتا ہے اور دماغ میں اغراضِ نفسانی بھرے ہوئے ہوتے ہیں تو شیطان بڑی آسانی سے اپنا تسلّط اس پر بٹھاتا ہے اور جس راستے چاہتا ہے چلاتا ہے۔خوب یاد رکھو کہ سفلی خواہشات سے شیطان کا مقابلہ ہرگز نہ ہو سکے گا۔شیطان کے وجود کا ثبوت ممکن ہے کہ بعض لوگ یہاں ایسے ہوں کہ جو شیطان کے وجود ہی سے منکر ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ اس کے وجود سے انکار بھی نادانی ہے۔کیا وہ مشاہدہ نہیں کرتے کہ انسان میں دو قوتیں موجود ہیں۔بیٹھے بیٹھے ایک لہر اس کے دل میں آتی ہے کہ نیکی کروں اور اکثر اوقات وہ اس کا ایسا پابند ہوجاتا ہے کہ بلا اس کے تقاضا ادا کئے کے رہ ہی نہیں سکتا۔اور اسی طرح کبھی اس کے دل میں ایسی لہر آتی ہے جو کہ بدی کی طرف رغبت دلاتی ہے اور وہ گھر سے اٹھ کر کنجروں کی طرف چلا جاتا ہے۔پس یہ قوتیں ہیں جن میں سے بدی کے محرک کا نام شیطان رکھ لو۔انسان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ابتدائی مراحل میں ہر ایک شَے کی حقیقت کو سمجھ لیوے۔جیسے جیسے بتدریج اس کی معرفت ترقی کرتی ہے۔ویسے ویسے وہ باریک در باریک امور کو سمجھتا جاتا ہے۔آسمان کے ستاروں کو دیکھو کہ وہ اوّل سوائے نقطوں کے اور کچھ معلوم نہیں ہوتے مگر جب اُنہی نقطوں کو دُور بینوں سے دیکھا جاوے تو کس قدر عجائبات معلوم ہوتے ہیں اور سابقہ معرفت اس کے آگے ہیچ نظر آتی ہے اور انسان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے کہ میں نے ان کو نقطہ کیوں سمجھا۔ایسے ہی شیطان اور فرشتے کے وجود کا حال ہے کہ ان کو اوّل نقطوںکی طرح ماننا پڑتا ہے اور پھر اس دور بین سے جو انبیاء لے کر آتے ہیں دیکھا جاوے تو ان کی اصل حقیقت