ملفوظات (جلد 6) — Page 285
وحدتِ جمہوری اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفسِ واحد کی طرح بنادے۔اس کا نام وحدتِ جمہوری ہے جس سے بہت سے انسان بحالت مجموعی ایک انسان کے حکم میں سمجھا جاتا ہے۔مذہب سے بھی یہی منشا ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح وحدتِ جمہوری کے ایک دھاگہ میں سب پروئے جائیں۔یہ نمازیں باجماعت جو کہ ادا کی جاتی ہیں وہ بھی اسی وحدت کے لیے ہیں تاکہ کل نمازیوں کا ایک وجود شمار کیا جاوے اور آپس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اس لیے ہے کہ جس کے پاس زیادہ نور ہے وہ دوسرے کمزور میں سرایت کرکے اسے قوت دیوے۔حتی کہ حج بھی اسی لیے ہے۔اس وحدت جمہوری کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ابتدا اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ اوّل یہ حکم دیا کہ ہر ایک محلہ والے پانچ وقت نمازوں کو باجماعت محلہ کی مسجد میں ادا کریں تاکہ اخلاق کا تبادلہ آپس میںہو اور انوار مل ملا کر کمزوری کو دور کر دیں اور آپس میں تعارف ہو کر اُنس پیدا ہوجاوے۔تعارف بہت عمدہ شَے ہے کیونکہ اس سے اُنس بڑھتا ہے جو کہ وحدت کی بنیاد ہے حتی کہ تعارف والا دشمن ایک ناآشنا دوست سے بہت اچھا ہوتا ہے کیونکہ جب غیر ملک میں ملاقات ہو تو تعارف کی وجہ سے دلوں میں اُنس پیدا ہوجاتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ کینہ والی زمین سے الگ ہونے کے باعث بغض جو کہ عارضی شَے ہوتا ہے وہ تو دور ہو جاتا ہے اور صرف تعارف باقی رہ جاتا ہے۔پھر دوسرا حکم یہ ہے کہ جمعہ کے دن جامع مسجد میں جمع ہوں کیونکہ ایک شہر کے لوگوں کا ہر روز جمع ہونا تو مشکل ہے۔اس لیے یہ تجویز کی کہ شہر کے سب لوگ ہفتہ میں ایک دفعہ مل کر تعارف اور وحدت پیدا کریں۔آخر کبھی نہ کبھی تو سب ایک ہوجاویں گے۔پھر سال کے بعد عیدین میںیہ تجویز کی کہ دیہات اور شہر کے لوگ مل کر نماز ادا کریں تاکہ تعارف اور اُنس بڑھ کر وحدتِ جمہوری پیداہو۔پھر اسی طرح تمام دنیا کے اجتماع کے لیے ایک دن عمر بھر میں مقرر کر دیا کہ مکہ کے میدان میں سب جمع ہوں۔غرضیکہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ آپس میں اُلفت اور اُنس ترقی پکڑے۔افسوس کہ ہمارے مخالفوں کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام کا فلسفہ کیسا پکا ہے۔دنیوی حکّام کی طرف سے جو احکام