ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 224

یکم جون۱۹۰۴ء (قبل از شام) دعا دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے۔جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اسے کسی بد معاشی میں میسر آسکتا ہے ہیچ ہے۔بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قربِ الٰہی ہے۔دعا کے ذریعہ ہی انسان خدا کے نزدیک ہوجاتا اور اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔جب مومن کی دعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہوجاتا ہے تو خدا کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خدا اس کا متولّی ہوجاتا ہے۔اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الٰہی تولّی کے بغیر انسانی زندگی قطعاً تلخ ہوجاتی ہے۔دیکھ لیجئے کہ جب انسان حد بلوغت پر پہنچتا ہے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگتا ہے تو نامُرادیوں ناکامیابیوں اور قسما قسم کے مصائب کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔وہ ان سے بچنے کے لیے طرح طرح کی کوششیں کرتا ہے۔دولت کے ذریعہ، اپنے تعلق حکّام کے ذریعہ، قسما قسم کے حیلہ و فریب کے ذریعہ وہ بچاؤ کے راہ نکالتا ہے، لیکن مشکل ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو۔بعض وقت اس کی تلخ کامیوں کا انجام خود کشی ہوجاتی ہے۔اب اگر ان دنیا داروں کے غموم و ہموم اور تکالیف کا مقابلہ اہل اللہ یا انبیاء کے مصائب کے ساتھ کیا جاوے تو انبیاء علیہم السلام کے مصائب بمقابل اوّل الذّکر جماعت کے مصائب بالکل ہیچ ہیں۔لیکن یہ مصائب و شدائد اس پاک گروہ کو رنجیدہ یا محزون نہیں کر سکتے۔ان کی خوشحالی اور سرور میں فرق نہیں آتا کیونکہ وہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تولّی میں پھر رہے ہیں۔استقامت ایک معجزہ ہے دیکھو اگر ایک شخص کا ایک حاکم سے تعلق ہو اور مثلاً اس حاکم نے اسے اطمینان بھی دیا ہو کہ وہ اپنے مصائب کے وقت اس