ملفوظات (جلد 6) — Page 225
سے استعانت کرسکتا ہے تو ایسا شخص کسی ایسی تکلیف کے وقت جس کی گرہ کشائی اس حاکم کے ہاتھ میںہے عام لوگوں کے مقابل کم درجہ رنجیدہ اور غمناک ہوتا ہے تو پھر وہ مومن جس کا اس قسم کا بلکہ اس سے بھی زیادہ مضبوط تعلق احکم الحاکمین سے ہو وہ کب مصائب و شدائد کے وقت گھبراوے گا۔انبیاء علیہم السلام پر جو مصیبتیں آتی ہیں اگر ان کا عشر عشیر بھی ان کے غیر پر وارد ہو تو اس میں زندگی کی طاقت باقی نہ رہے۔یہ لوگ جب دنیا میں بغرضِ اصلاح آتے ہیں تو ان کی کُل دنیا دشمن ہوجاتی ہے۔لاکھوں آدمی ان کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں لیکن یہ خطرناک دشمن بھی ان کے اطمینان میں خلل انداز نہیں ہوسکتے۔اگر ایک شخص کا ایک دشمن بھی ہو تو وہ کسی لمحہ بھی اس کے شر سے امن میں نہیں رہتا چہ جائیکہ ملک کا ملک ان کا دشمن ہو اور پھر یہ لوگ باامن زندگی بسر کریں ان تمام تلخ کامیوں کو ٹھنڈے دل سے برداشت کر لیں۔یہ برداشت ہی معجزہ و کرامت ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت ان کے لاکھ معجزوں سے بڑھ کر ایک معجزہ ہے۔کُل قوم کا ایک طرف ہونا۔دولت،سلطنت، دنیوی وجاہت، حسینہ جمیلہ بیویاں وغیرہ سب کچھ کے لالچ قوم کا اس شرط پر دینا کہ وہ اعلائے کلمۃ اللہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ سے رک جاویں لیکن ان سب کے مقابل جناب رسالت مآب کا قبول کرنا اور فرمانا کہ میں اگر اپنے نفس سے کرتا تو یہ سب باتیں قبول کرتا میں تو حکم خدا کے ماتحت یہ سب کچھ کر رہا ہوں اور پھر دوسری طرف سب تکالیف کی برداشت کرنا یہ ایک فوق الطاقت معجزہ ہے۔یہ سب طاقت اور برداشت اس دعا کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے جو مومن کو خدا نے عطا کی ہے۔ان لوگوں کی دردناک دعا بعض وقت قاتلوں کے سفّاکانہ حملہ کو توڑ دیتی ہے۔حضرت عمرؓ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے جانا آپ لوگوں نے سنا ہوگا۔ابوجہل نے ایک قسم کا اشتہار قوم میں دے رکھا تھا کہ جو جناب رسالت مآب کو قتل کرے گا وہ بہت کچھ انعام و اکرام کا مستحق ہوگا۔حضرت عمرؓ نے مشرف باسلام ہونے سے پہلے ابوجہل سے معاہدہ کیا اور قتلِ حضرت کے لیے آمادہ ہوگیا۔اس کو کسی عمدہ وقت کی تلاش تھی۔دریافت پر اسے معلوم ہوا کہ حضرت نصف شب کے ۱الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹،۲۰ مورخہ ۱۰،۱۷؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۶