ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 223

ہمارا یہ مطلب تو نہیں کہ ان سب کو اس طرح چھوڑے کہ ان سے کوئی تعلق ہی نہ رکھے۔ایک طرف بیوی بیواؤں کی طرح ہو جائے اور بچے یتیموں کی طرح ہوجائیں۔قطع رحم ہوجائے بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ بیوی بچوں کا پورا تعہد کرے۔ان کی پرورش پورے طور سے کرے اور حقوق ادا کرے۔صلہ رحم کرے لیکن دل ان میں اور اسباب دنیا میں نہ لگاوے۔دل بایار دست بکار رہے اگرچہ یہ بات بہت نازک ہے مگر یہی سچا انقطاع ہے جس کی مومن کو ضرورت ہے۔وقت پر خدا کی طرف ایسا آجاوے کہ گویا وہ ان سے کورا ہی تھا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت لکھتے ہیںکہ حضرت امام حسینؓصاحب نے ایک دفعہ سوال کیا کہ آپ مجھے محبت کرتے ہیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا۔ہاں۔پھر پوچھا آپ اللہ سے محبت رکھتے ہیں حضرت علیؓ نے فرمایا۔ہاں۔حضرت حسین علیہ السلام نے اس پر بڑا تعجب کیا اور کہا کہ ایک دل میں دو محبتیںکس طرح جمع ہوسکتی ہیں پھر حضرت حسین علیہ السلام نے کہا کہ وقت مقابلہ پر آپ کس سے محبت کریں گے۔فرمایا اللہ سے۔غرض انقطاع ان کے دلوں میں مخفی ہوتا ہے اور وقت پر ان کی محبت صرف اللہ کے لیے رہ جاتی ہے۔مولوی عبد اللطیف صاحب نے عجیب نمونہ انقطاع کا دکھلایا۔جب انہیں گرفتار کرنے آئے تو لوگوں نے کہا کہ آپ گھر سے ہو آویں۔آپ نے فرمایا میرا ان سے کیا تعلق ہے۔خدا سے میرا تعلق ہے سو اس کا حکم آن پہنچا ہے۔میں جاتا ہوں۔ہر چیز کی اصلیت امتحان کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔اصحاب رسول اللہ سب کچھ رکھتے تھے۔زن و فرزند اور اموال اور اقارب سب کچھ ان کے موجود تھے۔عزّتیں اور کاروبار بھی رکھتے تھے مگر انہوں نے اس طرح شہادت کو قبول کیا کہ گویا ایک شیریں پھل انہیں میسر آگیا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے لیے موت کو پسند کرتے۔ایک طرف تعہد حقوقِ عیال و اطفال میں کمال دکھایا اور دوسری طرف ایسا انقطاع کہ گویا وہ بالکل کورے تھے۔یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ کے لیے موت کو پسند کرتے کبھی نامَردی نہ دکھاتے بلکہ آگے ہی قدم رکھتے۔ایسی محبت سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جان دیتے تھے کہ بیوی بچوں کو بَلا جیسی سمجھتے تھے۔اگر بیوی بچے مزاحم ہوں تو ان کو دشمن سمجھتے تھے اور یہی معنے انقطاع کے ہیں۔آجکل کے رہبانوں کی طرح نہیں کہ بالکل بیوی بچے سے تعلق چھوڑ دے اور سارے جہاں سے ایک طرف ہوجائے۔آسمان پر رہبانیت کے انقطاع کی کچھ قدر نہیں۔صوفی منقطعین بھی نمونے دکھاتے رہے ہیں کہ بازن و فرزند اور با خدا رہے ہیں پھر جب وقت آیا تو زن و فرزند کو چھوڑا، اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگئے۔وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف منقطع ہوتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حال دیکھئے کیا انقطاع کا نمونہ ان سے ظاہر ہوا۔جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ضائع کرنا چاہتا ہے اللہ اس کو ضائع نہیں کرتا اور اس کا نشان دنیا سے معدوم نہیں کرتا۔میرا مطلب یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسا اخلاص ظاہر کریں اور اس قدر کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوجائے دوست دوست سے راضی نہیں ہوسکتا جب تک اس کے لیے وفاداری ظاہر اور ثابت نہ ہو۔کسی کے دو خدمتگار ہوں ایک وفادار اور مخلص ثابت ہو اور اپنے فرائض کو نہ رسم و رواج اور دباؤ سے بلکہ پوری محبت اور وفاداری اور اخلاص سے ادا کرے اور دوسرا ایسا ہو جو بے دلی سے اور رسمی طور پر کچھ کام کرے تو ان میں سے مالک اسی پہلے پر راضی ہوگا اور اسی کی باتوںکوسنے گا اور اسی پر اعتبار کرے گا اور وفادار ہی کو پیار کرے گا۔فیجِ اعوج کے زمانہ میں تعصّب بڑھ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ عَادَا وَلِیًّا لِیْ فَعَادَا اِلَیَّ۔ان لوگوں کو یہ خیال نہیں کہ ان کے تعصّب نے ان کو خدا سے بالکل دور کر دیا ہے۔ایک زمانہ آنے والا ہے کہ جس قدر ہم لوگ ہیں وہ سب نہ ہوں گے۔رسمی نمازوں سے خدا راضی نہیں ہوتا۔دنیا کے دوست بھی صرف الفاظ سے نہیں بنتے اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔اسلام کا لفظ ہی مسلمان بناتا ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور حکموں پر گردن جھکائی جاوے۔یہ لقب کسی اور ملّت کو نہیں دیا گیا۔اس اُمّت پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔اسلام جس بات کو چاہتا ہے وہ اسی جگہ سے اسلام کے ذریعہ سے حاصل ہوجاتا ہے۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرحـمٰن:۴۷) خدا کے دیدار کے واسطے اسی جگہ سے حواس ملتے ہیں۔مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى(بنی اسـرآءیل:۷۳) جو یہاں خدا نہیں دیکھتا وہ وہاں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔۱