ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 181

مگر وہ خوف بھی اللہ تعالیٰ کے واسطے نہیں اور نہ ایسا کہ اس کے ذریعہ کوئی اصلاح کریں بلکہ موت کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہم بھی مَر نہ جاویں اور یہ جائیداد اور اسباب کسی دوسرے کے قبضہ میں نہ چلا جاوے۔یونہی ذرا سا وقفہ ہوتا ہے پھر وہی شرارت اور شوخی اور نہیں ڈرتے کہ اس کے دورے بہت لمبے ہوتے ہیں۔رئیس۔جناب! بظاہر زمانہ اچھا بھی معلوم ہوتا ہے۔اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ بھگتی وغیرہ بھی کرتے ہیں۔حضرت اقدس۔دل نہیں ہیں جو کچھ ہے پوست ہی پوست ہے۔ظاہر داری کے طور پر اگر کچھ کیا جاتا ہے تو کیا جاتا ہے۔دل والی روح ہی اَور ہوتی ہیں۔ان کی آنکھیں صاف ہوتی ہیں۔ان کی زبان صاف ہوتی ہے۔ان کے چال چلن میں ایک خاص امتیاز ہوتا ہے۔وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے لرزاں ترساں رہتے ہیں۔نری زبان درازی سے کوئی اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتا۔مجازی حکّام کو جو اصل حالات سے ناواقف ہیں کوئی خوش کر لیوے مگر اللہ تعالیٰ کی نظر تو دل پر ہے اور وہ دل کے مخفی در مخفی خیالات تک کو جانتا ہے۔پس جب تک انسان سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف نہیں آتا ریاکاری اور ظاہرداری سے کچھ نہیں بنتا۔خدا تعالیٰ سچی تبدیلی چاہتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ابھی وہ پیدا نہیں ہوئی جب لوگ تبدیلی کریں گے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کچھ حصّہ بھی لوگوں کا درست ہو جاوے گا تو اللہ تعالیٰ رحم کرے گا۔یہ تو اور بھی چالاکی ہے کہ لوگوں کے سامنے نیک بنتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا متقی اور خدا ترس ظاہر کرتے ہیں اور اندرونی طور پر بڑی بڑی خرابیاں ان میں موجود ہوتی ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کے ظاہری بحث و مباحثہ میں ہزاروں مذہب پیدا ہوگئے ہیں مگر خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ کیسا ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ سے معاملہ صاف نہ ہو تو یہ چالاکیاں اور بھی خدا کے غضب کو بھڑکاتی ہیں۔چاہیے تو یہ کہ انسان خدا کے ساتھ معاملہ صاف کرے اور پوری فرمانبرداری اور اخلاص کےساتھ اس کی طرف رجوع کرے اور اس کے بندوں کو بھی کسی قسم کی اذیت نہ دے۔ایک شخص گیروی کپڑے پہن کر یا سبز لباس کر کے فقیر بن سکتا ہے اور دنیا دار اس کو فقیر بھی سمجھ لیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو اس کو خوب جانتا ہے کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے اور وہ کیا کر رہا ہے۔پس طاعون کا اصل اور صحیح علاج یہی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور