ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 180

گدی پر بیٹھا ہوا ہو کیونکہ مرید کے اپنے دل میں کھوٹ اور دغا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ اخلاص کو چاہتا ہے۔ریا کاری پسند نہیں کرتا ہے۔۱ ۹؍مئی ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور) طاعون کا عذاب ایک ہندو رئیس کے بعض استفسارات کے جوابات حضرت اقدس حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام درختوں کے سایہ میں حسب معمول تشریف فرما تھے کہ دینانگر کے دو ہندو رئیس آپ کی زیارت کو تشریف لائے۔ان کے ساتھ اور بھی چند آدمی تھے۔انہوں نے نہایت ادب اور احترام کے ساتھ سلام عرض کیا اور پھر طاعون کی مصیبت کا رونا رونا شروع کیا اور کہا کہ بڑا اختلاف مذاہب کا ہوگیا ہے۔ا س پر حضرت اقدس نے فرمایا۔اس زمانہ میں نرا اختلافِ مذاہب ہی نہیں رہا۔اختلافِ مذاہب کے سوا لوگوں نے خدا تعالیٰ کو بالکل چھوڑ دیا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنی سنّت کے موافق یہ عذاب نازل کیا ہے۔کیونکہ دنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے۔شرارتوں اور چالاکیوں کی کوئی حد نہیں رہی ہے۔طاعون کو اللہ تعالیٰ نے مامور کر کے بھیجا ہے جو اس کے نوکر کی طرح ہے۔خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر تو ایک پتّا اور ذرّہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔یہ اور بد بختی ہے کہ باوجودیکہ طاعون ایک خطرناک ڈرانے والا ہے مگرا س پر بھی خدا کی طرف توجہ نہیں کرتے اور خدا کی باتوں کو ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں۔خدا سے نہیں ڈرتے اور دل پاک و صاف نہیں کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ جب تک اہل دنیا اپنی اصلاح اور تبدیلی نہیں کریں گے اس وقت تک اس عذاب کو نہیں اٹھائے گا۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کو اس طرف بھی بالکل توجہ نہیں ہے۔جب کسی گاؤں یا شہر میں بیماری پڑتی ہے تو چند روز کے لیے ایک خوف پیدا ہوتا ہے