ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 182

اُس کی حد بندیوں کو نہ توڑے اور اس کی مخلوق کے ساتھ رحم کرے۔بد معاملگی نہ کرے اور یہ سب کام اخلاص کے ساتھ کرے لوگوں کو دکھانے کی نیت سے نہ کرے۔اگر اس قسم کی کوئی تبدیلی کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ رحم کے ساتھ اس پر نظر کرے گا۔رئیس۔جناب لوگ باہر جاتے ہیں اور اس کو بھی مفید سمجھتے ہیں مگر مولوی لوگ مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم گھروں سے نکلنے میں خدا کے ساتھ شرک کرتے ہو۔مولویوں کے ایسے فتوے دینے سے بھی بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔حضرت اقدس۔اللہ تعالیٰ تو علاج سے منع نہیں کرتا ہے۔علاج بھی اسی نے رکھے ہیں۔فرمایا۔لوگ دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے واسطے قسم قسم کے منصوبے کرتے ہیں اور ریاکاریوں سے کام لیتے ہیں۔مگر جب تک خدا تعالیٰ کسی کو منتخب اور برگزیدہ نہ کرے کچھ نہیں ہوسکتا۔دیکھو کسی کو بھوک پیاس لگتی ہے تو وہ روٹی کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے۔اسی طرح پر بیماریوں کے علاج بھی ہیں اور اشیاء میں خواص بھی اسی کے رکھے ہوئے ہیں۔یہ مولویوں کی غلطی ہے جو ایسا کرتے ہیں اور لوگوں کو تباہ کرتے ہیں۔خدا تو منع کرتا ہے کہ انسان عذاب کی جگہ پر نہ رہے لیکن ہاں جب بیماری شدت کے ساتھ پھیل جاوے تو یہ مناسب نہیں کہ انسان اس گاؤں یا شہر سے نکل کر کسی دوسرے گاؤں یا شہر میں جاوے اور یہ اس لیے منع ہے کہ جو لوگ وبازدہ گاؤں سے نکلتے ہیں وہ متاثر آب و ہوا سے نکل کر دوسری جگہ کو متاثر کرتے ہیں اور پھر بیمار ہو کر مَر جاتے ہیں۔ایسا ہی یہ بھی منع ہے کہ جہاں وبا پڑی ہوئی ہو وہاں بھی کوئی آدمی تندرست جگہ سے نہ جاوے لیکن یہ کبھی منع نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باہر کھلے میدانوں میں اور کھیتوں میں نہ جاویں یہ بلکہ ضروری ہے اور اس سے عموماً فائدہ پہنچتا ہے۔جہاں طاعون ہو فوراً اس گھر کو خالی کر دینا چاہیے اور باہر کھیتوں یا کھلے میدانوں میں بے شک چلے جاؤ بلکہ ایسا کرنا ضروری ہے۔رئیس۔جناب تعجب ہی ہے کہ خدا کے ہوتے ہوئے یہ غضب ہو رہا ہے۔حضرت اقدس۔یہ خدا تعالیٰ کی باتیں ہیں ان میں دخل نہیں دینا چاہیے۔خدا نے تو خود دنیا پر