ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 179

طرف چلی آتی ہے۔اگر فریب ہی کا کام ہو تو پھر وہ سر سبز کیوں ہو۔پیر اور گدی نشین آرزو رکھتے ہیں کہ لوگ ان کے مرید ہوں اور ان کی طرف آویں مگر مامور اس شہرت کے خواہشمند نہیں ہوتے ہاں وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ مخلوقِ الٰہی اپنے خالق کو پہچانے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرلے۔وہ اپنے دل میں بخوبی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ چیز ہی نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ بھی ان کو ہی پسند کرتا ہے کیونکہ جب تک ایسا مخلص نہ ہو کام نہیں کر سکتا ہے۔رِیاکار جو خدا کی جگہ اپنے آپ کو چاہتے ہیں وہ کیا کر سکتے ہیں اس لیے خدا ان کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ دنیا کے آسائش و آرام کے آرزو مند نہیں ہوتے۔رِیاکاری ایک بہت بڑا گند ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ریاکار انسان فرعون سے بھی بڑھ کر شقّی اور بد بخت ہوتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کو نہیں چاہتے بلکہ اپنی عزّت اور عظمت منوانا چاہتے ہیں لیکن جن کو خدا پسند کرتا ہے وہ طبعاً اس سے متنفّر ہوتے ہیں ان کی ہمّت اور کوشش اسی ایک اَمر میں صرف ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال ظاہر ہو اور دنیا اس سے واقف ہو۔وہ ایسی حالت میں ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ دنیا ان کو نہ پہچان سکے مگر ممکن نہیں ہوتا کہ دنیا ان کو چھوڑ سکے کیونکہ وہ دنیا کے فائدہ کے لیے آتے ہیں۔ان لوگوں کے جو دشمن اور مخالف ہوتے ہیں ان سے بھی ایک فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ان کے سبب سے ظاہر ہوتے ہیں اور حقائق و معارف کھلتے ہیں۔ان کی چھیڑ چھاڑ سے عجیب عجیب انوار ظاہر ہوتے ہیں اگر ابوجہل وغیرہ نہ ہوتے تو قرآن شریف کے تیس سیپارے کیوںکر ہوتے؟ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سی فطرت والے ہی اگر سب ہوتے تو ایک دم میں وہ مسلمان ہوجاتے۔ان کو کسی نشان اور معجزہ کی حاجت ہی نہ ہوتی۔پس ہم ان مخالفوں کے وجود کو بھی بے مطلب نہیں سمجھتے۔ان کی چھیڑ چھاڑ اللہ تعالیٰ کو غیرت دلاتی ہے اور اس کی نصرت اور تائیدات کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔غرض خدا کے ماموروں کا یہ خاص نشان ہوتا ہے کہ وہ اپنی پرستش کرانا نہیں چاہتے جس طرح پر وہ لوگ جو پیر بننے کے خواہشمند ہیں چاہتے ہیں۔اگر کوئی شخص اپنی پوجا کرائے تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے انسان کے بچے اس پوجا کے مستحق نہ ہوں؟ میںسچ کہتا ہوں کہ ایک مرید اس مرشد سے ہزار درجہ اچھا ہے جو مکر کی