ملفوظات (جلد 6) — Page 176
سچائی کے لیے زمینی اور آسمانی اَور بہت سے نشانوں کے سوا مقرر کئے تھے۔آسمانی نشان تو کسوف و خسوف کا تھا جو رمضان کے مہینہ میں واقع ہوگیا جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔دوسرا زمینی نشان طاعون کا تھا وہ بھی پورا ہوگیا۔ابھی طاعون کا پنجاب میں نام و نشان بھی نہ تھا جب میں نے اس کی خبر دی تھی اس وقت شتاب کار لوگوں نے جلد بازی کی اور خدا تعالیٰ کے اس بزرگ نشان کو ہنسی میں اڑانا چاہا مگر اب گو وہ زبان سے اقرار نہ کریں مگر ان کے دلوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ پیشگوئی جو طاعون کے متعلق تھی پوری ہوگئی۔اس نشان سے اعلاءِ کلمۃ اللہ اس طرح پر ہوگا کہ لوگ آخر جب اس کو عذابِ الٰہی سمجھ کر اس کے موجبات پر غور کریں گے اور فسق و فجور اور شرارت و استہزا چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف آئیں گے اور سمجھ لیں گے کہ خدا حق ہے تو اس سے اعلاءِ کلمۃ اللہ ہوگا یا نہیں؟ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے یہ طاعون ہمارے لیے کام کر رہی ہے۔اگر اس گروہ میں ایک شہید ہوجاتا ہے تو اس کے قائم مقام ہزار آتے ہیں۔یہ نادانوں کا شبہ فضول ہے کہ کیوں مَرتے ہیں۔ہم کہتے ہیں صحابہؓ جنگ میں کیوں شہید ہوتے تھے؟ کسی مولوی سے پوچھو کہ وہ جنگ عذاب تھی یا نہیں؟ ہرایک کو کہنا پڑے گا کہ عذاب تھی۔پھر ایسا اعتراض کیوں کرتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جا پڑتا ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ پھر نشان مشتبہ ہوجاتا ہے ہم کہتے ہیں کہ نہیں نشان مشتبہ نہیںہوتا اس واسطے کہ انجام کار کفار کا ستیاناس ہوگیا اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا اور اسلام ہی اسلام نظر آتا تھا چنانچہ آخر اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النّصـر:۲،۳) کا نظارہ نظر آگیا۔اسی طرح پر طاعون کا حال ہے۔اس وقت لوگوں کو تعجب معلوم ہوتا ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں لیکن ایک وقت آتا ہے جب طاعون اپنا کام کر کے چلی جائےگی اس وقت معلوم ہوگا کہ اس نے کس کو نفع پہنچایا اور کون خسارہ میں رہے گا۔یہ اس زمانہ کے لیے ایک عظیم الشّان نشان ہے جس کا ذکر سارے نبی کرتے چلے آئے ہیں اور طاعون سے اس قدر جلد ی لوگ حق کی طرف آرہے ہیں کہ پہلے نہیں آئے تھے۔