ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 175

حد سے بڑھ جاتی ہے اور شوخی اور شرارت میں اہلِ دنیا بہت ترقی کر جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے بکلّی دور جا پڑتے ہیں۔وہ عذاب اگرچہ سرکش منکرین کے لیے ہوتا ہے مگر سنّت اللہ یہی ہے کہ مامور کے بعض متبعین بھی شہید ہوجاتے ہیں وہ عذاب اَوروں کے لیے عذاب ہوتا ہے مگر ان کے لیے باعثِ شہادت۔چنانچہ قرآن شریف صاف طور پر بتاتا ہے کہ کفار جو بار بار عذاب مانگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ تم پر عذاب بصورت جنگ نازل ہوگا۔آخر جب وہ سلسلہ عذاب کا شروع ہوا اور کفار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیاں ہونے لگیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ ان جنگوں میں صحابہؓ شہید نہیں ہوئے، حالانکہ یہ مسلّم بات ہے کہ وہ تو کفار پر عذاب تھا اور خاص ان کے ہی لیے آیا تھا مگر صحابہؓ کو بھی چشمِ زخم پہنچا اور بعض جو علمِ الٰہی میں مقدر تھے شہید ہوگئے۔جن کی بابت خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ(البقرۃ:۱۵۵) بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ (اٰلِ عـمران:۱۷۰) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جاویں ان کو مُردے مت کہو بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہیں اور اسی جگہ ان کی نسبت فرمایا فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ (اٰلِ عـمران:۱۷۱) اب بتاؤ کہ وہ جنگ ایک ہی قسم کا تھا لیکن وہ کفار کے لیے عذاب تھا مگر صحابہؓ کے لیے باعثِ شہادت۔اسی طرح پر اب بھی حالت ہے لیکن انجام کار دیکھنا چاہیے کہ طاعون سے فائدہ کس کو رہتا ہے ہم کو یا ہمارے مخالفین کو۔اس وقت معلوم ہوگا کہ کون کم ہوئے اور کون بڑھے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت خدا کے فضل سے غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ طاعون ہی ہے۔بعض ایسے لوگوں کی درخواستیں بیعت کے واسطے آئی ہیں جو طاعون میں مبتلا ہو کر لکھتے ہیں کہ اس وقت مجھے طاعون ہوا ہوا ہے اگر زندہ رہا تو پھر آکر بھی بیعت کر لوں گا فی الحال تحریری کرتا ہوں۔طاعون کے ذریعہ سے کئی ہزار آدمی اس سلسلہ میں شامل ہوئے ہیں۔خلیفہ صاحب۔وہ جنگ تو اعلاءِ کلمۃ اللہ کے لیے تھا۔حضرت اقدس۔یہ طاعون بھی اعلاءِ کلمۃ اللہ کے لیے ہی ہے۔خدا تعالیٰ نے دو نشان مسیح موعود کی ۱ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۳