ملفوظات (جلد 6) — Page 177
خلیفہ صاحب۔حضور! کیا ایسے لوگ مامون ہوجائیں گے؟ حضرت اقدس۔اس میں کیا شک ہے کہ وہ امن میں تو ہوگئے۔اگر اس سلسلہ میں ہو کر ان میں سے کوئی مَر بھی جاوے تو وہ شہادت ہوگی اور خدا کے مامور پر ایمان لانے کا یہ فائدہ تو حاصل ہوگیا۔میں نے جس قدر طاعون کے متعلق کھول کھول بیان کیا ہے کسی نے نہیں کیا۔متواتر میں اس پیشگوئی کو شائع کرتا رہا اور خدا تعالیٰ نے مختلف رنگوں میں مختلف اوقات میں اس کے متعلق مجھ پر کھولا اور میں نے لوگوں کو سنایا یَا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا بہت پرانا الہام ہے جو چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔پھر وہ سیاہ پودوں والی رؤیا اور ہاتھی والی رؤیا۔غرض یہ طاعون خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئی ہے اور اپنا کام کر رہی ہے۔بعض لوگ شرارت سے کہتے ہیں کہ یہ طاعون ان کی شامتِ اعمال سے آئی ہے۔یہ تو وہی بات ہے جیسے حضرت موسٰی کو الزام دیا تھا۔مگر کوئی ان سے پوچھے کہ یہ عجیب بات ہے کہ شامتِ اعمال سے تو ہماری آئی ہے اور ہماری حفاظت کو خدا تعالیٰ ایک نشان قرار دیتا ہے اور مَر رہے ہیں دوسرے۔اس وقت ایک خاص تبدیلی کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکا ہوا ہے۔جو اب بھی تبدیلی نہیں کرتے خدا تعالیٰ ان کی پروا نہیں کرے گا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْاسی طاعون کے متعلق میرا الہام ہے۔۱ بخاری میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے مومن کی جان لینے میں تردّد ہوتا ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ مومن کو یکدفعہ نہیں پکڑتا ہے پھر اس کے ساتھ نرمی کرتا ہے پھر پکڑتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے یہ حالت گویا تردّد سے مشابہ ہے۔پہلی کتابوں میں بھی اس قسم کے الفاظ آئے ہیں کہ خدا پچھتایا۔میرے الہام میں بھی اُفْطِرُ وَاَصُوْمُ اسی رنگ کے الفاظ ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ جس مومن کے وجود میں خلق اللہ کا نفع ہو اور اس کی موت شماتت کا باعث ہو وہ کبھی طاعون سے نہیں مَرے گا۔میں جانتا ہوں اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ابھی تک کوئی ایسا آدمی طاعون سے نہیں مَرا جس کو میںپہچانتا ہوں یا وہ مجھے پہچانتا ہو جو شناخت کا