ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 171

نے اس نشان کو میرے دعوے کے وقت پورا کر دیا اگر میں اس کی طرف سے نہیں تھا تو کیا خدا تعالیٰ نے خود دنیا کو گمراہ کیا؟ اس کا سوچ کر جواب دینا چاہیے کہ میرے انکار کا اثر کہاں تک پڑتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور پھر خدا تعالیٰ کی تکذیب لازم آتی ہے۔اسی طرح پر اس قدر نشانات ہیں کہ ان کی تعداد دو چار نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں تک ہے تم کس کس کا انکار کرتے جاؤگے؟ اسی براہین میں یہ بھی لکھا ہے یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ اب تم خود آئے ہو تم نے ایک نشان پورا کیا ہے اس کا بھی انکار کرو اگر اس نشان کو جو تم نے اپنے آنے سے پورا کیا ہے مٹا سکتے ہو تو مٹاؤ۔میں پھر کہتا ہوں کہ دیکھو آیا ت اللہ کی تکذیب اچھی نہیں ہوتی اس سے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے میرے دل میں جو کچھ تھا میں نے کہہ دیا ہے اب ماننا نہ ماننا تمہارا اختیار ہے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں صادق ہوں اور اسی کی طرف سے آیا ہوں۔۱ ۲؍مئی ۱۹۰۴ء دعا ہی خدا شناسی کا ذریعہ ہے ایک رئیس کا یہ خیال سن کر کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ دعا سے مشکل حل ہوتی ہے ان کو بہت ہی کمزور کرنے والا ہے۔آپؑنے فرمایا کہ جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے صرف ایک دعا ہی ذریعہ خدا شناسی کا ہے۔اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہاً مانا جاوے۔اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، توکل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں۔ان باتوں کو بیوقوفی کہا جاتا ہے ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کانام لے ہی لیتا ہے۔اگر ان کے نزدیک خدا کوئی شَے نہیں ہے تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کر کے تو دکھلاویں۔تعجب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے ناامید ہے۔اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔