ملفوظات (جلد 6) — Page 170
آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہاً مانا جاوے۔اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، توکل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں۔ان باتوں کو بیوقوفی کہا جاتا ہے ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کانام لے ہی لیتا ہے۔اگر ان کے نزدیک خدا کوئی شَے نہیں ہے تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کر کے تو دکھلاویں۔تعجب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے ناامید ہے۔اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اور کون کھول سکتا ہے۔اگر وہ چاہے تو ایک کتّے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے۔طاعون کو گالی دینا منع ہے طاعون کو سبّ و شتم کرنا منع ہے کیونکہ وہ تو مامور ہے۔ہاں خدا سے صلح کرنی چاہیے کہ وہ اسے ہٹالیوے۔۱ ۴؍مئی ۱۹۰۴ء خدا تعالیٰ کی وحی پر کامل ایمان آج دن کو مولوی محمد علی صاحب۔ایم۔اےمینجر وایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنـز کی طبیعت علیل ہوگئی اور دردِ سر اور بخار کے عوارض کو دیکھ کر مولوی صاحب کو شبہ گذرا کہ شاید طاعون کے آثار ہیں۔جب اس بات کی خبر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوئی تو آپ فوراً مولوی صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے دار میں ہو کر اگر آپ کو طاعون ہو تو پھر اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ الہام اور یہ سب کاروبار گویا عبث ٹھہرا۔آپ نے نبض دیکھ کر ان کو یقین دلایا کہ ہرگز بخار نہیں ہے۔پھر تھرما میٹر لگا کر دکھایا کہ پارہ اس حد تک نہیں ہے، جس سے بخار کا شبہ ہو اور فرمایا کہ میرا تو خدا کی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسے اس کی کتابوں پر ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۸،۱۹ مورخہ ۸،۱۶؍مئی ۱۹۰۴ءصفحہ ۴