ملفوظات (جلد 6) — Page 172
اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اور کون کھول سکتا ہے۔اگر وہ چاہے تو ایک کتّے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے۔طاعون کو گالی دینا منع ہے طاعون کو سبّ و شتم کرنا منع ہے کیونکہ وہ تو مامور ہے۔ہاں خدا سے صلح کرنی چاہیے کہ وہ اسے ہٹالیوے۔۱ ۴؍مئی ۱۹۰۴ء خدا تعالیٰ کی وحی پر کامل ایمان آج دن کو مولوی محمد علی صاحب۔ایم۔اےمینجر وایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنـز کی طبیعت علیل ہوگئی اور دردِ سر اور بخار کے عوارض کو دیکھ کر مولوی صاحب کو شبہ گذرا کہ شاید طاعون کے آثار ہیں۔جب اس بات کی خبر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوئی تو آپ فوراً مولوی صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے دار میں ہو کر اگر آپ کو طاعون ہو تو پھر اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ الہام اور یہ سب کاروبار گویا عبث ٹھہرا۔آپ نے نبض دیکھ کر ان کو یقین دلایا کہ ہرگز بخار نہیں ہے۔پھر تھرما میٹر لگا کر دکھایا کہ پارہ اس حد تک نہیں ہے، جس سے بخار کا شبہ ہو اور فرمایا کہ میرا تو خدا کی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسے اس کی کتابوں پر ہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ ان دنوں لوگوں کو اور بعض جماعت کے آدمیوںکو بھی طرح طرح کے شکوک و شبہات پیش آرہے ہیں اس لیے میرا ارادہ ہے کہ ایک رسالہ لکھ کر اصل حقیقتِ بیعت اور الہامات سے اطلاع دی جاوے جس سے لوگوں کو معلوم ہو کہ بعض لوگ بیعت میں داخل ہو کر کیوں طاعون سے مَرتے ہیں؟ ایک نشان فرمایا کہ ان دنوں ایک دفعہ میری بغل میں ایک گلٹی نکل آئی۔میں نے اسے مخاطب ہو کر کہا ۱ البدر جلد ۳ نمبر ۱۸،۱۹ مورخہ ۸،۱۶؍مئی ۱۹۰۴ءصفحہ ۴