ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 150

اسباب پرستی کی زندگی دہریت کی رگ سے اصل میں ملی ہوئی ہوتی ہے حقیقی اور اصل زندگی یہی ہے کہ خدا پر ایمان حاصل ہو جاوے ایمان قوی اسی وقت ہوتا ہے جب خصوصیت کے ساتھ خوارقِ عادت اَور کثرت سے ہوں۔ہماری خواہش یہ ہے کہ الٰہی تجلّیّات ظاہر ہوں جیسے کہ موسیٰ نے اَرِنِيْ کہا تھا ورنہ ہمیں تو بہشت کی ضرورت ہے اور نہ کسی اَور شَے کی۔۱ ۲۸ ؍اپریل ۱۹۰۴ء (بعد دوپہر) امن است درمکانِ محبّت سرائے ما اور ایک خواب میں معلوم ہوا کہ طاعون تو گئی مگر بخار رہ گیا۔۲ اس الہام کو سناتے وقت فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ محبت بھی ایک نار ہوتی ہے اور طاعون بھی ایک نار ہے۔اس لئے دو نار ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی ہیں۔اسی لئے معبّرین نے بھی لکھا ہے کہ جو شخص دیکھے کہ کہ اس کے دل سے شعلہ نار بھڑکتا ہے وہ عاشق ہو جائے گا۔عشق کو بھی نار کہتے ہیں۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی اور عشق پیدا ہوجاوے اور اس کے ساتھ وفاداری، اخلاص ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو محفوظ کر لے گا۔۳ مومن کی نظر اعمالِ صالحہ پر ہونی چاہیے ایک نوجوان نے اپنے کچھ رؤیا اور الہامات سنا نے شروع کئے جب وہ سنا چکا تو آپ نے فرمایا۔مَیں تمہیں نصیحت کے طورپر کہتا ہوںاسے خوب یاد رکھو کہ ان خوابوں اور الہامات پر ہی نہ رہو البدرجلد ۳نمبر ۱۸،۱۹ مورخہ۸،۱۶ ؍مئی ۱۹۰۴ءصفحہ ۳،۴ ۲ غیر معمولی پرچہ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۰۴ء ۳ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۴، ۱۵ مورخہ ۳۰؍ اپریل ، ۱۰ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۳