ملفوظات (جلد 6) — Page 149
کہ امور مشہودہ اور محسوسہ کا انکار کیا جاوے۔اس سے کوئی یہ نہ دھوکا کھا وے کہ ہمارا اعتقاد قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف ہے ہرگز نہیں، بلکہ ہم تو قرآن شریف کی اس آیت پر عمل کرتے ہیں وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ(ھود : ۱۱۴) رعایتِ اسباب کرنی قدیم سنّت انبیاء کی ہے جیسے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں جاتے تو خَود و زرہ وغیرہ پہنتے اور خندق کھودتے۔بیماری میں دوائیں استعمال کرتے۔اگر کوئی ترک ِاسباب کرتا ہے تو وہ خدا کا امتحان کرتا ہے جو کہ منع ہے۔سخت دل ہر ایک فاسق سے بدتر ہوتا ہے اور وہ خدا سے اَبعدہوتا ہے جو ٹیڑھی راہ اختیار کرتا ہے وہ بِلا تلخی دیکھنے کے مَرتا نہیں۔۱ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۴ء (بوقتِ شام) خوارقِ عادت امور شام کے وقت اس اَمر کا ذکر ہو رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کہاں تک اپنے بندہ کی نصرت اور حفاظت کرتا ہے اس پر حضور نے ایک اپنا واقعہ سنایا۔فرمایا کہ مَیں ایک دفعہ زحیرِقولنج کے عارضہ میں مبتلا ہو گیا (پیچش جس کے ساتھ قولنج بھی ہو) نوبت یہاں تک پہنچی کہ زندگی سے بالکل مایوسی ہوگئی اور گھر کے سب لوگ اپنی طرف سے مجھے مُردہ تصور کر بیٹھے حتی کہ سورہ یٰسٓ بھی سنا دی گئی اور رونے کے لیے اردگر د چٹائیاں بچھا دیں لیکن مجھے دراصل ہوش تھی اور میں سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا لیکن چونکہ سخت تپش اور جلن تھی اس لیے بول نہ سکتا تھا میں نے خیال کیا کہ اگر میں زندہ بھی رہا تو اس قسم کی صعوبت اور موت کی تلخی پھر بھی دیکھنی پڑے گی کہ اسی اثنامیں مجھے الہام ہوا۔وَاِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِشِفَآءٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ اور تسبیح پڑھنے کا حکم دیا گیا میں تسبیح پڑھ پڑھ کر شکم پر اور درد کی جگہ پر ہاتھ پھیرتا تھا ایک سکینت حاصل ہوتی جاتی تھی اور درد واَلم وغیرہ رفع ہوتا جاتا تھا یہاں تک کہ اس سے بالکل آرام ہو گیا۔فرمایا۔خوارقِ عادات کا علم اور ہے اور یہ امور بہت ہی دقیق در دقیق ہیں۔معمولی زندگی اور