ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 148

وقت دنیا میں موجود ہوتا ہے توجہ کریں۔اس زمانہ میں بھی فسق و فجور کے سیلاب کا بند ٹوٹ گیا ہے۔را ست بازی، تقویٰ، عفت اور خداترسی اور خدا شناسی بالکل اُٹھ گئی تھی۔دین کی باتوں پر ہنسی کی جاتی تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبان پر کیا تھا کہ مسیح موعود کے وقت دنیا میں مَری بھیجوں گا اس طاعون کو اصلاحِ خلق کے لیے مسلّط کیا ہے۔طاعون کو بُرا کہنا بھی گناہ ہے یہ تو خدا تعالیٰ کا ایک مامور ہے۔جیسا کہ میں نے ہاتھی والی رؤیا میں دیکھا تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ بعض دیہات بالکل برباد ہو گئے ہیں اور ہر جگہ یہ آفت برپا ہے تو بھی ان شوخیوں، شرارتوں اور بیباکیوں میں فرق نہیں آیا جو اس سے پہلے بھی تھیں مکروفریب، ریاکاری بدستور پھیلی ہوئی ہے۔۱ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۴ء ایک شخص نے حفاظتِ طاعون کے لیے دعا کی درخواست کی۔فرمایا کہ اوّل اپنے اعمال درست کرو۔پھر دعا کا اثر ہوگا۔مکر اللہ مکر اللہ کے یہی معنے ہیں کہ انسان کی باریک در باریک تدابیر اور تجاویز پر آخرکار خدا کی تجاویز غالب آجاویں اور انسان کو ناکامی ہو۔اگر کوئی کتاب اللہ سے اس فلاسفی کو نہیں مانتا تو دنیا میں بھی اس کی نظیر موجود ہے اوراس کے ا سرار پائے جاتے ہیں چور کیسی باریک در باریک تدابیر کے نیچے اپناکام اور اپنی حفاظت کرتا ہے لیکن گورنمنٹ نے جوتجاویز باریک در باریک اس کی گرفتاری کی رکھی ہیں آخر وہ غالب آجاتی ہیں تو خدا کیوں نہ غالب آوے۔رعایتِ اسباب ضروری ہے اگر چہ سوائے اِذْنِ الٰہی کے کچھ نہیں ہوتا مگرتا ہم احتیاط کرنی ضروری ہے کیونکہ اس کے لیے بھی حکم ہی ہے۔احادیث میں جو متعدی امراض کے ایک دوسرے سے لگ جانے کی نفی ہے اس کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ کیسے ہوسکتا ہے