ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 140

دعا عمدہ شَے ہے اگرتوفیق ہو تو ذریعہ مغفرت کا ہو جاتی ہے اور اسی کے ذریعہ سے رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ مہربان ہو جاتا ہے۔دعا کے نہ کرنے سے اول زنگ دل پرچڑھتا ہے پھر قساوت پیدا ہوتی ہے پھر خدا سے اجنبیت، پھر عداوت، پھرنتیجہ سلب ِایمان ہوتاہے۔جس مہدی کو لوگ مانتے ہے وہ شکی ہے اور اس کی نسبت احادیث میں بہت تعارض ہے لیکن ہمارا دعویٰ اُس مہدی کا ہے جس کی نسبت کوئی شک نہیں۔خدا بڑا رحیم کریم ہے اگر لوگ رات دن تضرّع کریں۔خیرات اور صدقات دیں تو شاید وہ رحم کرکے اس عذاب سے ان کو نجات دے۔اگر جماعت متفق ہوکر تضرّع کی طرف متوجہ ہو تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ہمارا آخری حصّہ عمر کا ہے اور ہمیشہ تجربہ ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ ہی غالب ہوتا ہے وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (یوسف:۲۲) یوسف علیہ السلام کا قصّہ ہی دیکھو کہ سب بھائی مصیبت زدہ ہوکر اُسی کے سامنے پیش ہوتے لیکن اسے شناخت نہیں کرسکتے۔اگر یہ ہمارا مقدمہ ایک انسانی کاروبار ہوتا تو سب سے اوّل بیزارہونے والا اس سے میں ہوتا مگر جبکہ اس کے قدم قدم پر خدا کا الہام ہوتاہے تو معلوم ہوتا ہے اسی کی طرف سے ایک اَمر ہے۔فرمایا۔رابعہ بصری کو اسی دن غم ہوتا تھا۔جس دن خدا کی راہ میں انہیں کوئی غم نہ ہوتا۔مومن کسی نہ کسی ابتلا میں ضرور رہتا ہے ؎ یار سے چھیڑ چلی جائے اسد نہ سہی وصل تو حسرت ہی سہی زندگی بڑھانے کے لیے ایسے کام کرنے چاہئیں جو خدا کی راہ میں ہوں۔وہ احمق ہیں جو دنیا کو معشوق ومحبوب بنالیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ آخر اسے کام کیا آنا ہے۔۱