ملفوظات (جلد 6) — Page 141
(شام) زندگی کی اصل غرض ـِِ’’زندگی کے فیشن سے بہت دور جا پڑے ہیں ‘‘۔یہ الہام آج اعلیٰ حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوا تھا۔اس پر فرمایا کہ زندگی کی اصل غرض اور مقصود تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے مگر اس وقت میں دیکھتا ہوں کہ عام طور پر لوگ اس غرض اور مقصود کو فر اموش کر چکے ہیں اور کھانے پینے اور حیوانوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے سوااَور کوئی مقصود نہیں رہا ہے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا کو پھر اس کی زندگی کی غرض سے آگا ہ کرے اور یہ فناء ِقہری اس کو رجوع کرائے گی۔خوف ِخدا اس لیے ہرایک شخص کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرے اور اللہ تعالیٰ کاخوف اس کو بہت سی نیکیوں کا وارث بنائے گا۔جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہی اچھا ہے کیونکہ اس خوف کی وجہ سے اس کو ایک بصیرت ملتی ہے جس کے ذریعہ وہ گناہوں سے بچتا ہے۔بہت سے لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعام اور اکرام پر غور کرکے شرمندہ ہوجاتے ہیں اوراس کی نافر مانی اور خلاف ورزی سے بچتے ہیں لیکن ایک قسم لوگوں کی ایسی بھی ہے جو اس کے قہر سے ڈر تے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اچھا اور نیک تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی پرکھ سے اچھا نکلے۔بہت لوگ ہیں جو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہم متقی ہیں مگر اصل میں متقی وہ ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ کے دفتر میں متقی ہو۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے اسم ستّار کی تجلّی ہے۔لیکن قیامت کے دن جب پردہ دری کی تجلّی ہو گی اس وقت تمام حقیقت کُھل جائے گی۔اس تجلّی کے وقت بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو آج بڑے متقی اور پرہیز گار نظر آتے ہیں قیامت کے دن وہ بڑے فاسق فاجر نظر آئیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عملِ صالحہ ہماری اپنی تجویز اور قرار داد سے نہیں ہوسکتا۔اصل میں اعمالِ صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کاکوئی فساد نہ ہو کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے۔جیسے غذا طیّب اس وقت ہوتی ہے کہ وہ نہ کچی ہو نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنیٰ درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جو فوراً جزوِ بدن ہو جانے والی ہو۔اسی طرح پر