ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 139

پھر فرمایا کہ اس کے بعد رؤیا ہوئی کہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت قرآن پڑھنے لگی ہے میں نے اس سے کہا کہ صفحہ کا پہلا لفظ کھول کر بتاؤ میں اس سے تفاؤل لینا چاہتا ہوں۔اس نے قرآن شریف کھولا تو صفحہ کے سر پر لکھا ہوا تھا غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔فرمایا یہ بشارت ہے۔۱ دعا کی توفیق بھی خدا سے ہی ملتی ہے باوجود اس کے کہ انسان اپنے نفس کے اندر اختیار اور قدرت کا ایک مادہ پاتا ہے مگر پھر بھی وہ الٰہی قدرت کے تصرّفات سے باہر نہیں ہے اور اسے ہروقت اس بات کی ضرورت ہے کہ تمام قوتوں اور قدرتوں کا سر چشمہ جو اللہ کریم کی ذات ہے وہ اس سے قوت طلب کرے اس طلب کرنے میں بھی اسے خدا تعالیٰ کے فضل کی خاص ضرورت ہے۔بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ایک ضرورت کو محسوس کرتا ہے جانتا ہے کہ اس کے لیے دعا کرنی چاہیے، لیکن باوجود اس علم اور قدرت کے وہ دعا نہیں کرتا اور اسے اس کے لیے انشراحِ صدر حاصل نہیں ہوتا۔بعض لوگ اس باریک سِر اور تصرّفاتِ الٰہی کو مدّ ِنظر نہ رکھ کر دعا پر اعتراض کرتے ہیں ان کے ایسے اعتراضات پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر دعا اپنے اختیار میں ہوتی تو انسان جو چاہتا کر لیتا اسی لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ فلاں دوست یا رشتہ دارکے حق میں ضرور فلاں بات ہو ہی جاوے گی۔بعض وقت باوجود سخت ضرورت محسوس کرنے کے دعا نہیں ہوتی اور دل سخت ہو جاتا ہے چونکہ اس کے سِرّ سے لوگ واقف نہیں ہوتے اس لیے گمراہ ہو جاتے ہیں۔اس پر ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر جفّ القلم والی (یعنی مسئلہ تقدیر جس رنگ میں سمجھاگیا ہے ) بات ٹھیک ہے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کے علم میں سب ضرور ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ فلاں کام ضرور ہی کردیوے۔اگر ان لوگوں کا یہی اعتقاد ہے کہ جو کچھ ہونا تھا وہ سب کچھ ہو چکا اور ہماری محنت اور کوشش بے سُودہے تودردِسر کے وقت علاج کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں؟ پیاس کے لیے ٹھنڈا پانی کیوں پیتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ انسان کے تردّد۲ پر بھی کچھ نہ کچھ نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔۱الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱ ۲تردّد بمعنے کوشش، جدوجہد(مرتّب)