ملفوظات (جلد 6) — Page 110
جواب۔لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ:۲۸۷) اس کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہیے خاوند کی حیثیت کو مدّ ِنظر رکھنا چاہیے اگر اس کی حیثیت روپے کی نہ ہو تو وہ ایک لاکھ کا مہر کیسے ادا کرے گا اور مچھروں کی چربی تو کوئی مہر ہی نہیں یہ لَايُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ:۲۸۷) میں داخل ہے۔سوال۔میّت کے لیے فاتحہ خوانی کے لیے جو بیٹھتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں۔جواب۔یہ درست نہیں ہے بدعت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ اس طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔۱ ۶؍ مارچ ۱۹۰۴ء (دربارشام) نصیحت بعد البیعت ۶؍مارچ ۱۹۰۴ء کی شام کو اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے دست مبارک پر چندا حباب نے بیعت کی جس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔(ایڈیٹر) بیعت کو نبھائیں تم لوگوں نے اس وقت جو بیعت کی ہے اس کا زبان سے کہہ دینا اور اقرار کر لینا تو بہت ہی آسان ہے مگر اس اقرار ِبیعت کا نبھا نا اور اس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو دین سے لاپروا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دنیا اور اس کے فوائد کو آسان اور قریب دکھا تے ہیں لیکن قیامت کے معاملہ کو دور دکھا تے ہیں جس سے انسان سخت دل ہو جاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدتربن جاتا ہے اس لیے یہ بہت ہی ضروری اَمر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے تو جہاں تک کوشش ہوسکے ساری ہمّت اور توجہ سے اس اقرار کو نبھانا چاہیے اور گناہوں سے بچنے کے لیے کوشش کرتے رہو۔