ملفوظات (جلد 6) — Page 109
ہاں یہ ضرور ہے کہ ملانوں کو اس سے ثواب پہنچ جاتا ہے سواگر اسے ہی مُردہ تصوّر کر لیا جاوے (اور واقعی ملّاں لوگ روحانیت سے مُردہ ہی ہوتے ہیں )تو ہم مان لیں گے۔ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں دین تو ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں۔صحابہ کرامؓ بھی فوت ہوئے کیا کسی کے قل پڑھے گئے صدہا سال کے بعد اور بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہوئی ہے۔ایک طریق اسقاط کا رکھا ہے کہ قرآن شریف کو چکر دیتے ہیں یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے انسان خدا سے سچا تعلق رکھنے والا نہیں ہوسکتا جب تک سب نظر خدا پر نہ ہو۔سوال۔ایک عورت تنگ کرتی ہے کہ سُودی روپیہ لے کر زیور بنا دو اور اس کا خاوند غریب ہے۔جواب۔وہ عورت بڑی نالائق ہے جو خاوند کو زیور کے لئے تنگ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سُود لےکربنادے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا اور آپ کی ازواج نے آپ سے بعض دنیوی خواہشات کی تکمیل کا اظہار کیا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان کو یہ فقیرانہ زندگی منظور نہیں ہے تو تُو ان کو کہہ دے کہ آؤ تم کو الگ کر دوں انہوں نے فقیر انہ زندگی اختیار کی آخر نتیجہ یہ ہوا کہ وہی بادشاہ ہو گئیں وہ صرف خدا کی آزمائش تھی۔سوال۔ایک عورت اپنا مہرنہیں بخشتی۔جواب۔یہ عورت کا حق ہے اسے دینا چاہیے اوّل تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کردینا چاہیے۔پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر اپنا مہر خاوند کو بخش دیتی ہیں۔یہ صرف رواج ہے جو مروّت پر دلالت کرتا ہے۔سوال۔اور جن عورتوں کا مہر مچھر کی دومن چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے۔