ملفوظات (جلد 6) — Page 111
گناہوں کی حقیقت گناہ کیا چیزہے اللہ تعالیٰ کے خلافِ مرضی کرنا اور ان ہداتیوں کو جو اس نے اپنے پیغمبروں خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دی ہیں توڑنا اور دلیری سے ان ہدایتوں کی مخالفت کرنا یہ گناہ ہے جبکہ ایک بندہ کو خدا تعالیٰ کی ہدایتوں کا علم دیا جاوے اور اس کو سمجھا دیا جاوے پھر اگروہ ان ہدایتوں کو توڑتا اور شوخی اور شرارت سے گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بہت ناراض ہوتا ہے اور اس ناراضگی کا یہی نتیجہ نہیں ہوتا کہ وہ مَرنے کے بعد دوزخ میں پڑے گا بلکہ اسی دنیا میں بھی اس کو طرح طرح کے عذاب آتے اور ذلّت اٹھانی پڑتی ہے۔دنیاوی حکّام کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ایک قانون مشتہر کر دیتے ہیں اور پھر اگر کوئی ان کے احکام کو توڑتااور خلاف ورزی کرتا ہے تو پکڑاجاتا اورسزا پاتاہے لیکن دنیوی حکام کے عذاب سے اور ان کے قوانین واحکام کی خلاف ورزی کی سزا سے آدمی کسی دوسری عمل داری میں بھاگ جانے سے بچ بھی سکتا ہے اور اس طرح پیچھا چھڑا سکتا ہے مثلاً اگر انگریزی عمل داری میں کوئی خلاف ورزی کی ہے تو وہ فرانس یا کابل کی عمل داری میں بھاگ جانے سے بچ سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے احکام وہدایات کی خلاف ورزی کرکے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے؟ کیونکہ یہ زمین وآسمان جو نظر آتا ہے یہ تو اسی کا ہے اور کوئی اور زمین وآسمان کسی اور کا کہیں نہیں ہے جہاں تم کو پناہ مل جاوے اس واسطے یہ بہت ضروری اَمرہے کہ انسان ہمیشہ خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی ہداتیوں کے توڑنے یا گناہ کرنے پر دلیرنہ ہو کیونکہ گناہ بہت ہی بُری شَے ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور گناہ پر دلیری کرتا ہے تو پھر عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ اس جرأت ودلیری پر خدا تعالیٰ کا غضب آتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔۱ البدرسے۔’’اور وہ جان لیوے کہ خدا کی ناراضگی ایک جہنمی زندگی ہے۔‘‘ (البدر جلد۳نمبر۱۱مورخہ ۱۶؍مارچ۱۹۰۴ء صفحہ۶)