ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 93

۲۷؍فروری ۱۹۰۴ء (دربارِشام ) آج اعلیٰ حضرت حُـجَّۃُ اللہِ عَلَی الْاَرْضِ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسجد کے بالائی حصّہ پر نماز مغرب اداکی اور بعد ادائے نماز مغرب شہ نشین پر اجلاس فرماہوئے چند مہمانوں نے اجازت روانگی حاصل کی بعض احباب خصوصاً سید تفضل حسین صاحب اٹاوی (جو گیارہ سال کے بعد آئے تھے )کو خطاب کرکے پیار سے فرمایا کہ آمدن بارادت رفتن باجازت۔آپ تو سمجھتے ہی ہیں کہ کب تک آپ کو ٹھہرنا چاہیے۔۱ اس سے پایا جاتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ احباب عرصہ تک رہ کر آپ کی پاک صحبت سے بہرہ اندوز ہوں۔اسی ضمن میں طاعون کی شدت کا ذکر ہو گیا اس پر آپ نے سلسلہ کلام یوں شروع فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صاف کرو حقیقت میں سچے مسلمان بننے کااب وقت آیا ہے۲ یقین بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ پر جس قسم کا یقین انسان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ویسا ہی معاملہ کرتا ہے پس ضروری اَمر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صاف کروتا وہ بھی تم پر رحم کرے کیونکہ سچ یہی ہے۔مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔طاعون سے وفات احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ بھی طاعون سے فوت ہوئے۳ لیکن ان کے لیے وہ شہادت تھی۔مومن کے واسطے یہ شہادت ہی ہے پہلی امتوں پر رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ (البقرۃ:۶۰) تھی۔صحابہؓ کس قدر اعلیٰ درجہ رکھتے تھے لیکن ان میں سے بھی اس کا نشانہ ہو گئے اس سے ان کے مومن ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ابوعبیدہ بن الجراح جیسے صحابی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بڑے ہی عزیزتھے طاعون ہی سے شہید ہوئے تھے۔طاعون سے مَرنا عام مومنوں کے لیے تو کوئی حرج نہیں البتہ جہاں انتظامِ الٰہی میں فرق آتا ہے وہاں خدا تعالیٰ ایسا معاملہ نہیں کرتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا کوئی مامور ومرسل طاعون کا شکار نہیں ہوسکتا اور نہ کسی اور خبیث