ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 55

کشش نازل ہوا کرتی ہے جو دلوں کو ان کی استعدادوں کے مطابق کشش کرتی اور ایک قوم بنا دیتی ہے اس سے تمام سعید روحیں صادق کی طرف کھینچی چلی آتی ہیں۔دیکھو ایک شخص کو دوست بنا کر اس کو اپنے منشا کے موافق بنانا ہزار مشکل رکھتا ہے اور اگر ہزاروں روپے خرچ کرکے بھی کسی کوصادق وفادار دوست بنانے کی کوشش کی جاوے تو بھی معرض خطر میں ہی پڑنا ہے اور پھر آخر کار اس خیال کے بر عکس نتیجہ نکلتا ہے مگر ادھر اب لاکھوں ہیں کہ غلا موں کی طرح سچے فرمانبردار، وفادار، صدق ووفا کے پتلے خود بخود کھینچے چلے آتے ہیں۲ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس اَمر کی اطلاع آج سے بائیس۲۲ برس پیشتر جب اس کی ایک بھی مثال قائم نہ ہوئی تھی دی گئی چنا نچہ الہام ہے کہ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش کا نزول ہے۔سعید تو دوستی کے رنگ میں چلے آتے ہیں مگر شقی بھی اس حصے سے محروم نہیں ان میں مخالفت کا جوش شعلے مار رہا ہے جب کہیں ہمارا نام بھی ان کے سامنے آ جاتا ہے تو سانپ کی طرح بل پیچ کھاتے اور بیخود ہو کر مجنونوں کی طرح گالی گلوچ تک آجاتے ہیں ورنہ بھلا دنیا میں ہزاروں فقیر، لنگوٹی پوش، بھنگی، چرسی، کنجر، بد معاش، بدعتی وغیرہ ہزاروں پھر تے ہیں مگر ان کے لیے کسی کو جوش نہیں آتا اور کسی کے کان پر جوں نہیں چلتی وہ چاہیں بد مذہبیاں اور بے دینیاں کریں پھر بھی ان سے مست ہی ہو رہے ہیں اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ وہ چونکہ روحانیت سے خالی ہیں اس واسطے ان کے واسطے کسی کو کشش نہیں۔۱ آنحضرتؐکے زمانہ بعثت میں ہزاروں ہزار لوگ اپنے کاروبا ر چھوڑ کر بھی آپؐکی مخالفت کے لیے کمربستہ ہوئے اپنے مالوں کا جانوں کا نقصان منظورکیا اور آنحضرت کی مخالفت کے لیے دن رات تدبیروں اور منصوبوں میں کوشاں ہوئے مگر دوسری طرف مسیلمہ تھا ادھر کسی کو توجہ نہ تھی اس کی مخالفت کے واسطے کسی کے کان بھی کھڑے نہ ہوئے۔آنحضرتؐکے واسطے جس طرح گھر گھر میں پھوٹ اور جدائی ہوتی تھی مسیلمہ کے واسطے ہرگز نہ ہوئی۔غرض صادق کے واسطے ہی ایک کشش ہوتی ہے جو دلوں کے ولولوں کو اُبھارتی اور جوش میں لاتی ہے سعیدوں کے ولولے سعادت اور شقیوںکے شقاوت کے رنگ میں پھل لاتے ہیں۔شقی چونکہ اسی فطرت کے ہوتے ہیں۔اسی واسطے ان کے واسطے کشش بھی اُلٹے رنگ میں ثمرات لاتی ہے۔۲ (دربارِ شام ) تشبّہ بالکفّار ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ تشبّہ بالکفّار تو کسی بھی رنگ میں جائز نہیں۔اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکہ سا لگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگا لے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۱ مسلمانوں کو اپنے ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہیے ہمارے آنحضرتؐتہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سرا ویل بھی خریدنا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی، کُڑتہ،چادر اور پگڑی بھی آپؐکی عادت مبارک تھی۔جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہیے کہ ان میں ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔۲ جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے ہے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے۔کیا کفار کی رسوم و عادات کی؟اب اسے ڈر چاہیے تو خدا کا اور اتباع چاہیے تو محمدؐ رسول اللہ کی۔کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہیے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں۔اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔۳ ۱البدر میں مزید لکھا ہے۔’’ مگر ہمارے لئے ہر ایک طرف سے کوشش ہے کہ یہ کاروبار رُکے مگر وہ بڑھتا جاتا ہے کیونکہ ان لوگوں کی فطرت الٹی ہے اس لیے اُن کو کشش بھی اُلٹی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹ ) ۲الحکم جلد ۷ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۷