ملفوظات (جلد 5) — Page 54
ہر جانور کا یہ قاعدہ ہے اور اس کے اندر ایک خاصیت ہے کہ جس جگہ سے اسے ایک دفعہ ٹھو کر لگتی ہے اور مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اس جگہ کا پھر وہ کبھی قصد نہیں کرتا مگر صرف انسان ہی ایک ہے جو باوجود اشرف المخلوقات ہونے کے ان پر ندوں وغیرہ سے بھی گرا ہوا ہے کہ جہاں سے اسے مصائب پہنچتے ہیں اور ضرر اور نقصان اٹھاتا ہے اس کی طرف بھاگنے کا حریص ہوتا ہے ہو شیا ر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس نافرمانی کو ترک کرتا ہے بلکہ جذبا ت نفس کا مطیع ہو کر پھر اسی کام کو کرنے لگتا ہے جس سے ایک بار ٹھوکر کھا چکا ہو۔۱ ۱۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر) صادق کے ساتھ ایک کشش نازل ہوتی ہے فرمایا۔صادق کی بعثت کے ساتھ ہی آسمان سے اس کے واسطے ایک کشش نازل ہوا کرتی ہے جو دلوں کو ان کی استعدادوں کے مطابق کشش کرتی اور ایک قوم بنا دیتی ہے اس سے تمام سعید روحیں صادق کی طرف کھینچی چلی آتی ہیں۔دیکھو ایک شخص کو دوست بنا کر اس کو اپنے منشا کے موافق بنانا ہزار مشکل رکھتا ہے اور اگر ہزاروں روپے خرچ کرکے بھی کسی کوصادق وفادار دوست بنانے کی کوشش کی جاوے تو بھی معرض خطر میں ہی پڑنا ہے اور پھر آخر کار اس خیال کے بر عکس نتیجہ نکلتا ہے مگر ادھر اب لاکھوں ہیں کہ غلا موں کی طرح سچے فرمانبردار، وفادار، صدق ووفا کے پتلے خود بخود کھینچے چلے آتے ہیں۲ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس اَمر کی اطلاع آج سے بائیس۲۲ برس پیشتر جب اس کی ایک بھی مثال قائم نہ ہوئی تھی دی گئی چنا نچہ الہام ہے کہ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش کا نزول ہے۔سعید تو دوستی کے رنگ میں چلے آتے ہیں مگر شقی بھی اس حصے سے محروم نہیں ان میں مخالفت کا جوش شعلے مار رہا ہے جب کہیں ہمارا نام بھی ان کے سامنے آ جاتا ہے تو سانپ کی طرح بل پیچ کھاتے اور بیخود ہو کر مجنونوں کی طرح گالی گلوچ تک آجاتے ہیں ورنہ بھلا دنیا میں ہزاروں فقیر، لنگوٹی پوش، بھنگی، چرسی، کنجر، بد معاش، بدعتی وغیرہ ہزاروں پھر تے ہیں مگر ان کے لیے کسی کو جوش نہیں آتا اور کسی کے کان پر جوں نہیں چلتی وہ چاہیں بد مذہبیاں اور بے دینیاں کریں پھر بھی ان سے مست ہی ہو رہے ہیں اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ وہ چونکہ روحانیت سے خالی ہیں اس واسطے ان کے واسطے کسی کو کشش نہیں۔۱ ۱ الحکم جلد۷ نمبر۱۴ مورخہ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۷ ۲ البدر سے۔’’جس طرح انسان کا جسم ایک ہیکل کی طرح بنا کر اس میں خدا نے روح پھونکی ہے ویسے ہی ایک کشش بھی دلوں میں دی ہے جو کہ ان کو کھینچ کر یہاں لا رہی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹)