ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 56

لگا لے یا سر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندو رکھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۱ مسلمانوں کو اپنے ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہیے ہمارے آنحضرتؐتہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سرا ویل بھی خریدنا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی، کُڑتہ،چادر اور پگڑی بھی آپؐکی عادت مبارک تھی۔جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہیے کہ ان میں ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔۲ جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے ہے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے۔کیا کفار کی رسوم و عادات کی؟اب اسے ڈر چاہیے تو خدا کا اور اتباع چاہیے تو محمدؐ رسول اللہ کی۔کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہیے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں۔اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔۳ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں۔سیالکوٹ سے ایک دوبا رانگریزی جوتا آیا۔ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل ہوتا تھا کبھی ادھر کا ادھر اور کبھی ۱ البدر میںہے۔’’مثلاً کوئی مسلمان ہندوئوں کی طرح بودی وغیرہ رکھ لیوے تو اگرچہ قرآن اور حدیث میں اس کا کہیں ذکر صریح نہیں ہے مگر چونکہ کفار سے اس میںمشابہت پائی جاتی ہے اس لیے اس سے پرہیز چاہیے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹ ) ۲ البدر میںہے۔’’مسلمانوں کا پیرایہ اختیار کرنا عمدہ بات ہے۔اس سے انسان مسلمان ثابت ہوتا ہے۔حتی الوسع دوسروں کو اعتراض کا موقع نہ دینا چاہیے جو لباس اسلام کا ہے اسی میں تقویٰ ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹ ) ۳ البدر سے۔’’حتی الوسع اپنے آپ کو ایسے لباس سے بچانا چاہیے کہ جس سے مشابہت کفار ہوجاتی ہے۔جب لباس کفار کا ہے تو دوسرے انسان کو وہ کافر ہی نظر آوے گا۔یہ انسان کی فطرت ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر اصرار کرتا ہے تو آخر کار بڑی بڑی باتوں پر آجاتا ہے مگر جب مسلمان کہلاتا ہے تو اسے کفار کے لباس کی کیا ضرورت ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۹ )