ملفوظات (جلد 5) — Page 37
جب انسان توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو فر اموش کر دیتا ہے اور تائب کو بے گناہ سمجھتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تائب اپنی توبہ پر قائم رہے بہت لوگ ہیں کہ توبہ کر کے بھول جاتے ہیں مثلاًحج کرنے والے حج کرکے آتے ہیں اور واپس آکر چند دنوں کے بعد پھر سا بقہ بدیوں میں گرفتا ر ہو جاتے ہیں تو ان کے ایسے حج سے کیا فائدہ؟ خدا تعالیٰ گناہوں سے ہمیشہ بیزار ہے اس لیے انسان کو گناہ سے ہمیشہ بچنا چاہیے جو شخص اس بات پر قادر ہے کہ گناہ چھوڑ دے اور پھر نہ چھوڑے تو خدا تعالیٰ ایسے شخص کو ضرور پکڑے گا اگر تم چاہتے ہو کہ اس توبہ کے درخت سے پھل کھا ؤ اور تمہارے گھر وبا ؤں سے بچے رہیں تو چاہیے کہ سچی توبہ کرو۔خدا تعالیٰ اپنی سنّت کو نہیں بد لا کرتا جیسے قرآن شریف میں ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا (فاطر:۴۴) اور جو انسان ذرا سی بھی نیکی کرتا ہے تو خدا اسے ضائع نہیں کرتا اسی طرح جو ذرّہ بھر بدی کرتا ہے اس پر بھی خدا تعالیٰ مواخذ ہ کرتا ہے پس جب یہ حالت ہے تو گناہ سے بہت بچنا چاہیے۔گناہ کی پروا نہ کرنی بعض لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر اس کی پروا نہیں کرتے گویا گناہ کو ایک شیریں شربت کی مثال خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہ ہوگا مگر یاد رکھیں کہ جیسے خدا تعالیٰ بڑا غفور اور رحیم ہے ویسے ہی وہ بڑا بے نیاز بھی ہے جب وہ غضب میں آتا ہے تو کسی کی پروا نہیں کرتا وہ فرماتا ہے وَلَا يَخَافُ عُقْبٰهَا (الشمس:۱۶) یعنی کسی کی اولاد کی بھی اسے پروا نہیں ہوتی کہ اگر فلاں شخص ہلاک ہوگا تو اس کے یتیم بے کس بچے کیا کریں گے آج کل دیکھو یہی حالت ہو رہی ہے آخر کار ایسے بچے پادریوں کے ہاتھ پڑ جاتے ہیں اس لیے گناہ کرکے کبھی بے پروا مت ہو اور ہمیشہ توبہ کرو۔نماز اور دعا کا حق یہ مت خیال کرو کہ جو نماز کا حق تھا ہم نے ادا کر لیایا دعا کا جو حق تھا وہ ہم نے پورا کیا ہرگز نہیں دعا اور نماز کے حق کا ادا کرنا چھوٹی بات نہیں یہ تو ایک موت اپنے اوپر وارد کرنی ہے نمازاس بات کا نام ہے کہ جب انسان اسے ادا کرتاہو تو یہ محسوس کرے کہ اس جہان سے دوسرے جہان میں پہنچ گیاہوں۔بہت سے لوگ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر