ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 38

موت اپنے اوپر وارد کرنی ہے نمازاس بات کا نام ہے کہ جب انسان اسے ادا کرتاہو تو یہ محسوس کرے کہ اس جہان سے دوسرے جہان میں پہنچ گیاہوں۔بہت سے لوگ ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو بَری خیال کرکے کہتے ہیں کہ ہم نے تو نماز بھی پڑھی اور دعا بھی کی ہے مگر قبول نہیں ہوتی یہ ان لوگوں کا اپنا قصور ہوتا ہے۔نماز اور دعا، جب تک انسان غفلت اور کسل سے خالی نہ ہو تو وہ قبولیت کے قابل نہیں ہوا کرتی۔اگر انسان ایک ایسا کھانا کھائے جو کہ بظاہر تو میٹھا ہے مگر اس کے اندر زہر ملی ہوئی ہے تو مٹھاس سے وہ زہر معلوم تو نہ ہوگا مگر پیشتر اس کے کہ مٹھاس اپنا اثر کرے زہر پہلے ہی اثر کرکے کام تمام کر دے گا یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بھری ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ غفلت اپنا اثر پہلے کر جاتی ہے یہ بات بالکل نا ممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بالکل مطیع ہو اور پھر اس کی دعا قبول نہ ہو ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے مقررہ شرائط کو کامل طور پرادا کرے جیسے ایک انسان اگر دُور بین سے دور کی شَے نزدیک دیکھنا چاہے تو جب تک وہ دُوربین کے آلہ کو ٹھیک ترتیب پر نہ رکھے فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال نماز اور دعا کا ہے اسی طرح ہر ایک کام کی ایک شرط ہے جب وہ کامل طور پر ادا ہو تو اس سے فائدہ ہوا کرتا ہے اگر کسی کو پیاس لگی ہو اور پانی اس کے پاس بہت سا موجود ہے مگر وہ پیے نہ تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا یا اگر اس میں سے ایک دو قطرہ پیے تو کیا ہوگا؟ پوری مقدار پینے سے ہی فائدہ ہوگا غرضیکہ ہر ایک کام کے واسطے خدا نے ایک حد مقرر کی ہے جب وہ اس حد پر پہنچتا ہے تو با برکت ہوتا ہے اور جو کام اس حد تک نہ پہنچیں تو وہ اچھے نہیں کہلا تے اور نہ ان میں برکت ہوتی ہے۔عاجزی عاجز ی اختیار کرنی چاہیے عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریٰت:۵۷) تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتار دے تو پھراس کی فطرت میں عاجز ی ہی نظر آوے گی اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعائیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پر کرو جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خدا اسے برباد نہیں کیا کرتا لیکن جو سستی میں زندگی بسر کرتا ہے اسے آخر فرشتے بیدار کرتے ہیں۔اگر تم ہر وقت اللہ کو یادرکھو گے تو یقین رکھو کہ اللہ کا وعدہ بہت پکا ہے وہ کبھی تم سے ایسا سلوک نہ کرے گا جیسا کہ فاسق فاجر سے کرتا ہے خدا کو کوئی ضرورت نہیں کہ تم کو عذاب دیوے بشرطیکہ تم ایمان لاؤاور شکر کرو۔انسان کو عذاب ہمیشہ گناہ کے با عث ہوتا ہے خدا فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (الرّعد:۱۲) اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بد لتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرے جب تک انسان اپنے آپ کو صاف نہ کرے تب تک خدا عذاب کو دور نہیں کرتا ہے۔