ملفوظات (جلد 5) — Page 36
لا ف وگزاف کا نام توحید نہیں مو لویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کرتے ہیں اور آپ کچھ عمل نہیں کرتے اسی لیے اب ان کا کسی قسم کا اعتبا ر نہیں رہا ہے۔ایک مو لوی کا ذکر ہے کہ وہ وعظ کر رہا تھا سامعین میں اس کی بیوی بھی موجود تھی انفاق، صدقہ، خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا جس سے مؤثر ہو کر ایک عورت نے پاؤں سے ایک پازیب اتار کرواعظ صاحب کو دے دی جس پر واعظ صاحب نے کہا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤں دوزخ میں جلے؟ یہ سن کر اس نے دوسری بھی دے دی جب گھر میں آئے تو بیوی نے بھی اس وعظ پر عملدرآمد چاہا کہ محتاجوں کو کچھ دے مو لوی صاحب نے فرمایا کہ یہ باتیں سنا نے کی ہوتی ہیں کرنے کی نہیں ہوتیں اور کہا کہ اگر ایسا کام ہم نہ کریں تو گذارہ نہیں ہوتا انہیں کے متعلق یہ ضرب المثل خوب ہے۔؎ واعظاں کیں جلوہ بر محراب ومنبر میکنند چوں بہ خلوت می روند آں کا ردیگر میکنند تعبیر رؤیا مُردہ کو کلمہ پڑھتے سننا یعنی دین کا دوبارہ سر سبز ہونا۔بڑ یعنی بوہڑ کے درخت سے مُراد نصاریٰ کا دین ہے کہ جس کی عظمت اور سر کشی تو بہت ہے مگر پھل ندارد۔۱ ۱۰؍ اپر یل ۱۹۰۳ء بعد از نماز جمعہ چند اشخاص نے بیعت کی جس پر حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر فرمائی۔بیعت ِتوبہ اس وقت جو تم بیعت کرتے ہو یہ بیعت توبہ ہے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ جو کوئی توبہ کرے گا اس کے گناہ بخش دوں گا گناہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان دیدہ دانستہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اور ان تمام احکام کے برخلاف کرے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے اور ان باتوں کو کرے جن کے کرنے سے منع فرمایا ہے گناہ ایسی چیز ہے کہ جس کا نتیجہ اس دنیا میں بھی بد ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۷،۱۰۸