ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 35

(مجلس قبل از عشاء) توحید اور اسباب پرستی اوّل طاعون کے ٹیکہ کے متعلق بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی اس کے بعد توحید کا ذکر چل پڑا۔فرمایا کہ توحید اس کا نام نہیں کہ صرف زبان سے اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُـحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہہ لیا۔بلکہ توحید کہ یہ معنے ہیں کہ عظمتِ الٰہی بخوبی دل میں بیٹھ جاوے اور اس کے آگے کسی دوسری شَے کی عظمت دل میں جگہ نہ پکڑے۔ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون کا مرجع اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو سمجھا جاوے اور ہر ایک اَمر میں اسی پر بھروسہ کیا جاوے کسی غیر اللہ پر کسی قسم کی نظر اور توکّل ہرگز نہ رہے اور خدا کی ذات میں اور صفات میں کسی قسم کا شرک جائز نہ رکھا جاوے۔اس وقت مخلوق پرستی کے شرک کی حقیقت تو کُھل گئی ہے اور لوگ اس سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں اس لئے یورپ وغیرہ تمام بلاد میں عیسائی لوگ ہر روز اپنے مذہب سے متنفر ہو رہے ہیں۔چنانچہ روز مرّہ کے اخباروں، رسالوں اور اشتہاروں سے جو یہاں پڑھے جاتے ہیں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔الغرض مخلوق پرستی کو اب کوئی نہیں مانتا۔ہاں اسباب پرستی کا شرک اس قسم کا شرک ہے کہ اس کو بہت لوگ نہیں سمجھتے۔مثلاًکسان کہتا ہے کہ میں جب تک کھیتی نہ کروں گا اور وہ پھل نہ لائے گی تب تک گذارہ نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ہر ایک پیشہ والے کو اپنے پیشے پر بھروسہ ہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر ہم یہ نہ کریں تو پھر زندگی محال ہے۔اس کا نام اسباب پرستی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ خدا کی قدرتوں پر ایمان نہیں ہے پیشہ وغیرہ تو درکنار پانی، ہوا، غذا وغیرہ جن اشیاء پر مدارِزندگی ہے یہ بھی انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک خدا تعالیٰ کا اذن نہ ہو۔اسی لئے جب انسان پانی پیے تو اسے خیال کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا ہے اور پانی نفع نہیں پہنچاسکتا جب تک خدا تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو۔خدا کے ارادے سے پانی نفع دیتا ہے اور جب خدا چاہتا ہے تو وہی پانی ضرر دیتا ہے۔